کرسچن میرج ایکٹ میں 153 سال بعد تبدیلیاں، بل تیار، دولہا دلہن کا مسیحی ہونا لازم قرار

کرسچن میرج ایکٹ میں 153 سال بعد تبدیلیاں، بل تیار، دولہا دلہن کا مسیحی ہونا لازم قرار
— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

پنجاب میں کرسچن میرج ایکٹ میں 153 سال بعد بنیادی تبدیلیوں کے لیے بل تیار کر لیا گیا۔

بل میں شادی کے لیے دولہا اور دلہن دونوں کا مسیحی ہونا لازم قرار دیا گیا ہے، موجودہ قانون میں کسی ایک فریق کا مسیحی ہونا کافی قرار دیا گیا تھا۔

بل چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور فیلبوس کرسٹوفر کی جانب سے جمع کروایا گیا ہے جس میں شادی کے لیے لڑکے اور لڑکی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کی تجویز شامل ہے۔

اس سے قبل قانون میں لڑکے کی عمر 16 اور لڑکی کی 13 سال مقرر تھی۔

مسیحی شادیوں کی رجسٹریشن یونین کونسل اور نادرا کے ریکارڈ میں لازمی شامل کرنے اور رجسٹرڈ گرجا گھروں کو مسیحی طریقہ کار کے مطابق نکاح پڑھانے کی اجازت دینے کی تجویز ہے۔

موجودہ بل میں نکاح کی تقریب کے وقت اور دن پر عائد پابندیاں بھی ختم کرنے کی تجویز ہے، جبکہ موجودہ قانون کے تحت شام 6 بجے کے بعد نکاح کی اجازت نہیں۔



50% LikesVS
50% Dislikes
April 2026
M T W T F S S
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  

اپنا تبصرہ بھیجیں