سانحہ گل پلازہ پر حکومت سندھ کی عملدرآمد کمیٹی کی سفارشات

سانحہ گل پلازہ پر حکومت سندھ کی عمل درآمد کمیٹی کی سفارشات موصول ہوگئیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے 15 دن میں عملدرآمد رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔
دستاویزات کے مطابق متعدد محکموں کے افسران کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ ایس بی سی اے کو تعمیر مکمل ہونے کے بعد بھی عمارتوں کے معائنے کا اختیار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
بلند و بالا اور تجارتی عمارتوں کی باقاعدہ مشترکہ فائر سیفٹی انسپیکشن کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ گل پلازہ کیس میں ذمہ دار ایس بی سی اے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
اسی طرح یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ نظرثانی شدہ نقشے منظور اور عمارت ریگولرائز کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے، کراچی فائر بریگیڈ میں خامیوں پر متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ فائر بریگیڈ میں خالی آسامیوں کو فوری پر کرنے اور خصوصی تربیت فراہم کی جائے۔
دستاویزات کے مطابق ماڑی پور فائر اسٹیشن کو فوری طور پر فعال بنانے، مطلوبہ منظوری کے بغیر فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر افسر کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ 2021 فائر آڈٹ کی خلاف ورزیاں دور نہ کرنے والوں کا تعین کیا جائے۔ 1991 میں گل پلازہ لیز میں توسیع اور کرائے میں کمی کی منظوری کی بھی تحقیقات کی جائیں۔ سول ڈیفنس کے متعدد افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جبکہ ضلع جنوبی کی انتظامیہ اور فائر سیفٹی مانیٹرنگ پر سوالات کی انکوائری کمشنر کریں۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ریسکیو 1122 کو مزید مضبوط بنانے اور تاخیر کا سبب بننے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ گل پلازہ مینجمنٹ کمیٹی کو سندھ کنڈومینیم ایکٹ کے تحت رجسٹر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق سفارش کی گئی ہے کہ گل پلازہ مینجمنٹ کمیٹی کے مالی معاملات کی مکمل تحقیقات کی جائیں، پلازہ مینجمنٹ کمیٹی کے صدر اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے۔
اسی طرح فرانزک رپورٹ میں ناکافی فائرفائٹنگ سسٹم، بند ایمرجنسی راستے اور تجاوزات کی نشاندہی پر کارروائی کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکموں کو سفارشات پر عملدرآمد اور ذمہ داروں کے خلاف بلاخوف کارروائی کی جائے۔




