ماتحت عدالتوں کا 2 افراد کو شناختی کارڈ دینے کا فیصلہ کالعدم قرار

ماتحت عدالتوں کا 2 افراد کو شناختی کارڈ دینے کا فیصلہ کالعدم قرار
— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے ماتحت عدالتوں کی جانب سے 2 افراد کو شناختی کارڈ دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے نادرا کی اپیلیں منظور کرنے کا تحریری فیصلہ بھی جاری کر دیا۔

تحریری فیصلے کے مطابق سول عدالتوں کو مشکوک شہریت کے کیسز میں فیصلوں کا اختیار نہیں، شہری شناختی کارڈ سے متعلق 30 دن کے اندر نادرا ویریفیکیشن بورڈ سے رجوع کریں۔

تحریری فیصلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ نادرا ویریفیکیشن بورڈ 60 روز کے اندر قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔

تحریری فیصلے کے مطابق نادرا نے سینئر سول جج سیالکوٹ اور سیشن جج کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں ماتحت عدالتوں نے مشکوک شہریت کے باوجود نادرا کو 2 شہریوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کا حکم دیا۔

تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ نادرا سے شناختی کارڈ حاصل کرنا شہریوں کا بنیادی حق ہے۔

تحریری فیصلے کے مطابق شہریوں کا دعویٰ ہے کہ وہ پیدائشی پاکستانی شہری ہیں جب کہ نادرا نے انہیں غیر ملکی قرار دے کر ان کے شناختی کارڈ بلاک کر دیے۔

تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ نادرا نے جو دستاویزی ثبوت پیش کیے وہ قابلِ اعتماد ہیں، جواب دہندگان اپنی پاکستانی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہے، ماتحت عدالتوں نے اہم دستاویزات اور قانونی اصولوں کو نظر انداز کیا۔

تحریری فیصلے کے مطابق ہائی کورٹ ان قانونی غلطیوں کو درست کرنے کا اختیار رکھتی ہے، اس لیے ماتحت عدالتوں کے دونوں فیصلے کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں