مراد علی شاہ کی کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک بولورما امگابازار سے ملاقات، کراچی واٹر اصلاحاتی منصوبوں کا جائزہ

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی کراچی واٹر اصلاحاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے منعقد کیے گئے اجلاس میں ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار سے ملاقات ہوئی ہے۔
اس اجلاس میں وزیرِ بلدیات، میئر کراچی، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری اور دیگر بھی شریک ہوئے۔
دورانِ اجلاس مراد علی شاہ اور بولورما امگابازار نے کراچی واٹر اصلاحاتی منصوبوں کا جائزہ لیا، کراچی میں پانی اور نکاسیٔ آب کے نظام کی بہتری کے لیے تیز رفتار روڈ میپ پر اتفاق کیا گیا اور کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور کے فور پر پیش رفت تیز کرنےکی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ سوئی سدرن نے 22 جون 2026ء کو منصوبے کا مقام حوالے کیا ہے، 96 انچ قطر کی پائپ لائن کی مشترکہ تکنیکی جانچ کی تیاریاں جاری ہیں جب کہ نیپا پل کی اصلاح اور دیگر تکنیکی کام 20 اگست تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ کے فور توسیعی منصوبے کی خریداری کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، ورلڈ بینک کی این او سی موصول ہو چکی ہے، کے فور منصوبے کا اشتہار جلد جاری کیا جائے گا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بڑے پیمانے پر تنصیب سے پہلے پائلٹ پروگرام شروع کیا جائے گا۔
اجلاس میں کنسلٹنٹس کی تعیناتی اور تکنیکی مطالعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کلورینیشن اسٹیشنز کو مقررہ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، کمیشننگ جاری ہے، 30 جولائی سے پانی کے معیار کی جانچ کا آغاز متوقع ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ منصوبے سے متاثرہ 203 افراد میں سے 186 کو معاوضے ادا کیا گیا ہے۔
جس پر وزیرِاعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی کمیشننگ اور ٹیسٹنگ کا عمل مکمل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی سندھ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطہ مضبوط کریں، غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ جدید واٹر یوٹیلیٹی ادارے ڈیٹا، میٹرنگ اور ٹیکنالوجی پر چلتے ہیں، شہر کراچی کو جدید نظام کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ کراچی میں پائیدار پانی اور نکاسیٔ آب کی فراہمی کے لیے ورلڈ بینک کا تعاون جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ اصلاحات، گورننس، سماجی تحفظ اور بروقت عمل درآمد منصوبے کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔




