ٹرمپ کے امن منصوبہ اعلان کے بعد اسرائیلی حملوں میں تیزی مزید، 18 فلسطینی شہید
کراچی (نیوز ڈیسک) صدر ٹرمپ کے امن منصوبہ اعلان کے بعد اسرائیلی حملوں میں تیزی، مزید 18 فلسطینی شہید کر دئیے گئے، تین روز میں شہدا کی تعداد 28 ہوگئی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ سٹی، خان یونس، دیر البلح اور جبالیہ میں گھروں پر فضائی حملے، طبی مراکز اور ادویات کے گودام بھی نشانہ، غزہ وزارت صحت نے اسپتالوں پر حملے جنگی جرم قرار دیا، نیتن یاہو نے ٹرمپ کے امن منصوبے کو ہوا میں اڑادیا، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے امریکی دباؤ کے بغیر جنگ بندی مشکل ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملے اتوار کو بھی جاری رہے، جن میں کم از کم 18 فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں امن اور حماس کے غیر مسلح ہونے سے متعلق منصوبے کے اعلان کے بعد صرف تین روز کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 28 تک پہنچ گئی۔ طبی پانچ سالہ بیٹا اعظم شہید ہوگئے۔ خان یونس کے شمال مغرب میں القرارہ کے علاقے میں ایک اپارٹمنٹ پر حملے میں محمود الحمد، ان کی اہلیہ فاطمہ اور ان کی کمسن بیٹی جاں بحق ہوگئے، جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہوئے۔ وسطی غزہ کے شہر دیر البلح میں ایک اور فضائی حملے میں کمال ابو معیلق اور ان کی اہلیہ ہدیٰ ابو معیلق شہید ہوگئے، جبکہ اسی علاقے میں موٹر سائیکل پر سوار دو بھائی بھی الگ حملے میں جان سے گئے۔ شمالی غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں بھی ایک فلسطینی اسرائیلی حملے میں شہید ہوا۔ 48گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ بھر میں متعدد رہائشی عمارتوں اور شہری مقامات کو بغیر پیشگی انتباہ کے نشانہ بنایا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان مقامات پر حماس یا دیگر مسلح گروپوں کے ارکان موجود تھے، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق حملوں میں عام شہری متاثر ہوئے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے حالیہ امن منصوبے کے اعلان کے باوجود زمینی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ ان کے مطابق لبنان اور غزہ میں ماضی کی جنگ بندیوں کی طرح موجودہ معاہدہ بھی عملی طور پر مؤثر ثابت ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، جبکہ اسرائیلی امور کے ماہر مہند مصطفیٰ کے مطابق اسرائیل پر حقیقی عمل درآمد کے لیے صرف مؤثر امریکی دباؤ ہی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔




