کراچی: میر رضا علی کی ہلاکت کی تفتیش کیلئے قائم کمیٹی میں اضافہ کردیا گیا

کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے نوجوان میر رضا علی کی لاش ملنے کے معاملے پر تفتیش کیلئے قائم کمیٹی میں اضافہ کردیا گیا، جس کا نوٹفیکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی میں اسسٹنٹ چیف سی پی ایل سی کاشف افتخار کو شامل کردیا گیا، کاشف افتخار تفتیشی کمیٹی کو ٹیکنیکل معاونت فراہم کریں گے۔
پہلے تشکیل دی گئی تفتیشی کمیٹی میں تین ایس ایس پیز بھی شامل ہیں، ایڈیشنل آئی جی کراچی نے ایس ایس پی ایس آئی یو سمیع اللّٰہ سومرو کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی تھی، ٹیم میں ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ، اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن عثمان سدوزئی شامل ہیں۔
دوسری جانب کراچی میں میر رضا علی کی پُراسرار موت سے متعلق تفتیش بدستور جاری ہے، اب تک بارہ افراد شاملِ تفتیش کیے جا چکے ہیں۔
تفتیشی حکام کو ایک اور سی سی ٹی وی ویڈیو مل گئی، جس میں مشکوک موٹر سائیکل سوار افراد جائے وقوع پر آکر 20 سیکنڈ تک رُکے رہے اور پھر چلے گئے۔
رضا علی آخری ایام میں کن لوگوں سے رابطے میں رہا، اور وہ کتنے افراد کا مقروض تھا؟ پولیس نے ان سب کی فہرست بھی بنالی ہے۔
کراچی پولیس چیف کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی ہر زاویے سے تفتیش کر رہی ہے، ملوث عناصر کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
خیال رہے کہ میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، جس کی لاش دو روز بعد گلستان جوہر سے ملی تھی، میر رضا علی صبح چار بج کر نو منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی جبکہ اس کے سینے میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ رضا کی لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
پولیس کی جانب سے ٹیلی کام کمپنی سے مقتول کا فون ریکارڈ اور اس سے رابطہ رکھنے والے افراد کا ڈیٹا بھی طلب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ رضا نے جس ٹیکسی سے سفر کیا تھا اس کے ڈرائیور کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے، ڈرائیور نے بیان میں بتایا کہ اس نے میر رضا علی کو گلستان جوہر میں اس کے کچن پر چھوڑا تھا۔
مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ رضا کا 30 اگست کو گلشن اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور رضا اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔




