بلوچستان اسمبلی میں اسما جتک کیس کی گونج، وزیر اور اپوزیشن لیڈر کا واک آؤٹ

بلوچستان کے ضلع خضدار میں رشتے نہ دینے پر لڑکی کے منگیتر، ماموں اور والد کے قتل کا معاملہ بلوچستان اسمبلی تک پہنچ گیا، ملزم کی عدم گرفتاری کے خلاف صوبائی وزیر علی مدد جتک اور اپوزیشن لیڈر یونس زہری ایوان سے واک آوٹ کر گئے۔
اسپیکر نے آئی جی پولیس بلوچستان، ڈی آئی جی پولیس، ایس پی خضدار کو ملزم کی گرفتاری کےلیے دو دن کی مہلت دے دی۔
اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر علی مدد جتک نے خضدار میں اسما جتک کیس پر ایوان کو آگاہ کیا کہ رشتہ نہ دینے پر ملزم نے اسما کے منگیتر، ماموں اور بعدازاں والد کو قتل کر دیا جبکہ اسما کو اغوا بھی کیا گیا تھا تاہم بعد میں پولیس نے اسے بازیاب کروایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز اسما جتک نے خطرات کے پیش نظر اپنا ویڈیو بیان جاری کیا تو چند گھنٹے بعد اس کے والد کو بھی قتل کردیا گیا۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اسماء کے والد کے قتل کو دو روز گزرنے کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔
اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے خبردار کیا کہ اگر قاتل گرفتار نہ ہوئے تو وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ ذمہ دار ہوں گے، جس کے بعد یونس زہری اور علی مدد جتک ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن نے واقعے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر داخلہ کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سب کو قاتل کا معلوم ہے، مگر نام نہیں لیتے، بلوچستان میں موجودہ حالات کے ذمہ دار نواب اور سردار ہیں۔
وزیر داخلہ ضیا لانگو نے یقین دلایا کہ متاثرہ خاندان سے رابطہ ہے اور پولیس کو ملزم کی گرفتاری کی ہدایت دی جا چکی ہے۔
اسپیکر نے آئی جی اور ڈی آئی جی سے روز میں واقعے کی پیشرفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے اجلاس 28 اگست تک ملتوی کردیا۔




