بانی پی ٹی آئی صبح سے شام تک آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں، رپورٹ عدالت میں جمع

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا یافتہ بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے الزامات کی تردید کردی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی صبح لاک اَپ کھلنے کے بعد سے شام تک آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی یا کسی بھی قیدی کو تنہائی میں نہیں رکھا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل قواعد کے مطابق ہر منگل کو اپنی اہلیہ بشریٰ عمران سے ملاقات کی بھی اجازت ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی جیل میں قید تنہائی کے خلاف درخواست کی سماعت کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس خادم حسین سومرو کریں گے۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے بانی پی ٹی آئی کی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عام قیدیوں کو بانی پی ٹی آئی کے رہائشی حصے تک رسائی نہیں دی جاتی۔ وہ 7 سیل پر مشتمل کمپاؤنڈ میں دن بھر آزادانہ چل پھر سکتے ہیں۔ جیل کے ڈاکٹر ہر روز تین بار ان کا معائنہ کرتے ہیں اور ان کے کھانے کی جانچ کرتے ہیں۔
ڈاکٹرز بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن اور آکسیجن سیچوریشن سمیت دیگر طبی علامات چیک کرتے ہیں اور انہیں آگاہ بھی کرتے ہیں۔ ایک کُل وقتی سزا یافتہ قیدی، بانی کے منتخب کردہ مینو کے مطابق روزانہ تین وقت کا کھانا تیار کرتا ہے، بانی پی ٹی آئی کو قدرتی روشنی، تازہ ہوا اور طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ورزش کی سہولت حاصل ہے۔
سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ درخواست گزار علیمہ خانم کے الزامات بے بنیاد ہیں، درخواست مسترد کی جائے۔




