مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کے خلاف کارروائی مقصد نہیں، اسحاق ڈار

مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کے خلاف کارروائی مقصد نہیں، اسحاق ڈار
فائل فوٹو
فائل فوٹو 

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا حامل ہے، کسی ملک کے خلاف کارروائی مقصد نہیں، امن و استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو دستخط کیے، معاہدہ تینوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے اور یہ برسوں کی مشاورت اور رابطہ کاری کا نتیجہ ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ معاہدے کا مقصد امن و سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون مضبوط بنانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دے گا، کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، یہ اصول یو این منشور کے آرٹیکل 51 سے ہم آہنگ ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن و تعاون کا خواہاں ہے، تنازعات کے پُرامن حل اور عوام کے محفوظ مستقبل کے لیے پُرعزم ہیں۔



50% LikesVS
50% Dislikes
August 2026
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31  

اپنا تبصرہ بھیجیں