مکہ دفاعی معاہدہ کتنا اہم؟ تینوں ممالک کی مشترکہ طاقت کا رنگ کیا؟
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ کتنا اہم ہے؟ اور اس اتحاد کے نتیجے میں تینوں ملکوں کی مشترکہ طاقت کا رنگ کیا ہوگا؟
مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے بعد تینوں ممالک پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ کی مشترکہ فوجی طاقت نمایاں ہے۔
اعداد و شمار اس شراکت داری کی طاقت واضح کرتے ہیں، گلوبل فائر پاور انڈیکس 2026 کے مطابق تینوں کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 14 لاکھ فعال فوجی اہلکار، 3 ہزار 415 فوجی طیارے، 6 ہزار 46 ٹینک اور 344 بحری اثاثے موجود ہیں۔
پاکستان تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار فعال اہلکاروں اور جوہری صلاحیت کے ساتھ اہم کردار ادا کرتا ہے، ترکیہ کے پاس 192 بحری اثاثوں کے ساتھ ڈرونز، میزائلز، سینسرز اور الیکٹرانک وارفیئر سمیت مضبوط دفاعی صنعت ہے۔
سعودی عرب تقریباً 63 ارب 90 کروڑ ڈالر کے سالانہ دفاعی بجٹ کے ساتھ سب سے بڑا مالی حصہ فراہم کرتا ہے اور اس کی جغرافیائی اہمیت بھی نمایاں ہے، تینوں کا مشترکہ دفاعی بجٹ تقریباً 124 ارب 40 کروڑ ڈالر سالانہ ہے۔
یہ صرف ایک دفاعی معاہدہ نہیں، بلکہ مختلف فوجی طاقتوں کو ایک مشترکہ دفاعی شراکت داری میں جوڑنے کی کوشش ہے۔




