ملزمہ انمول عرف پنکی کے ایک اکاؤنٹ میں سال میں 3 کروڑ روپے آئے، ایڈیشنل آئی جی کراچی

فوٹو: کراچی پولیس
فوٹو: کراچی پولیس 

ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے ایک اکاؤنٹ میں سال میں 3 کروڑ روپے آئے، ایک ٹرانزیکشن 2 کروڑ 90 لاکھ کی ہوئی، کل 10 کروڑ روپے کا ڈیٹا ابھی سامنے آیا ہے۔

سینیٹ کی ذیلی کمیٹی داخلہ کے کنوینر سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کی زیر صدارت اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی نے بتایا کہ انمول عرف پنکی کیس میں 10 لوگوں کو چالان کیا گیا ہے، دو لوگ انمول عرف پنکی کے اکاؤنٹ چلاتے تھے، یہ لاہور سے آپریٹ کرتی تھیں، سمیر نام کا ملزم بھی اس کا ساتھی ہے۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کہا کہ عاقب نامی شخص کراچی میں اس کا نیٹ ورک چلاتا ہے، دو خواتین بھی اس کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں، یہ دو خواتین پنکی کی رائیڈر تھیں، چند افریقی شہری کوکین لاکر اس کو دیتے تھے۔

آزاد خان نے کہا کہ ملزمہ کے کل 25 رائیڈرز تھے جن کی شناخت ہو چکی ہے، میڈیا کی وجہ سے شور مچا ورنہ یہ اتنی بڑی سپلائر نہیں، ملزمہ انمول کے بے نامی اکاؤنٹس کے حوالے سے تحیقیقات جاری ہے۔

سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے سوال کیا کہ طلال چوہدری نے کہا تھا پنکی کو چھوڑیں گے نہیں، کیا وزیر مملکت برائے داخلہ نے آپ سے رابطہ کیا؟ جس کے جواب میں ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ وزیر مملکت داخلہ نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ سندھ کے وزیروں کے خلاف اربوں کی کہانیاں ہیں، یلو لائن بلیو لائن کو دیکھ لیں، ضمیر عباسی بھی گرفتار ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں