میر رضا قتل کیس کی تفتیش میں پیش رفت، تحقیقاتی کمیٹی میں مزید ارکان شامل
کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس کی تفتیش میں پیش رفت جاری ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی میں مزید دو ارکان شامل کرلیے گئے، جس کے بعد کمیٹی کے ارکان کی مجموعی تعداد 9 ہوگئی۔
میر رضا کیس کی تحقیقاتی کیمٹی کا تیسرا اجلاس ڈی آئی جی کرائم برانچ کے دفتر میں ہوا، اجلاس میں کمیٹی کے تمام ارکان کو شرکت کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، جس میں اب تک ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے جائزہ لیا گیا۔
تفتیشی حکام کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی میں مزید دو ارکان شامل کرلیے گئے ہیں، جن میں شاہ لطیف تھانے کے ایس ایچ او اور ایک ڈی ایس پی شامل ہیں۔ نئے دو ارکان کی شمولیت کے بعد کمیٹی کے ارکان کی مجموعی تعداد 9 ہوگئی ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے میر رضا کا موبائل فون اور اسمارٹ واچ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے واپس لے لیے گئے ہیں۔ دونوں اہم ڈیوائسز کو مزید فارنزک جانچ کے لیے لاہور فرانزک لیب بھیجا جائے گا۔
حکام کے مطابق میر رضا کے اہلخانہ نے این سی سی آئی اے سے موبائل فون اور اسمارٹ واچ کا فارنزک کروانے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد ڈیوائسز کو لاہور فرانزک لیب بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ قتل کے مقدمے کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں، جبکہ جائے وقوعہ سے مزید شواہد بھی ملے ہیں۔ نئے حاصل ہونے والے شواہد اور میر رضا کی الیکٹرونک ڈیوائسز سے ملنے والی فارنزک معلومات کو تفتیش کا حصہ بنایا جائے گا۔
حکام کے مطابق میر رضا کے اہلخانہ نے این سی سی آئی اے سے موبائل فون اور اسمارٹ واچ کا فارنزک کرانے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا،تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے مزید شواہد بھی ملے ہیں۔
خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔
میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی 4 اگست کو جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں کی گئی تھی۔
پروگرام میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد کے سامنے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ پروگرام میں بات کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد، دونوں نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
بعد ازاں عدالتی حکم کے بعد میر رضا کی 8 اگست کو قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد اسی دن دوبارہ تدفین کردی گئی۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی، جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے، میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، سر اور چہرے پر زخموں کے متعدد نشانات پائے گئے، جسم پر کالے دھبے بھی تھے۔
رپورٹ کے مطابق میر رضا کے پاؤں پر بھی زخم کے نشان ہیں، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے ہیں، رپورٹ میں میر رضا کی دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم کی نشاندہی ہوئی ہے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جبڑے کے حصے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد ملے ہیں، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائی گئیں۔




