وفاقی آئینی عدالت کا سرکاری ملازم کی بیوہ کو پینشن فوری ادا کرنے کا حکم

وفاقی آئینی عدالت نے بلدیاتی سرکاری ملازم کی بیوہ کی اپیل منظور کرلی، پینشن کے فوائد اور فیملی پینشن فوری جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس سید ارشد حسین نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا، عدالت نے ٹی ایم اے ایبٹ آباد کے متوفی ملازم بشیر حسین کی بیوہ عابدہ پروین کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔
آئینی عدالت نے بیوہ کو رقم جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ بیوہ کو تمام قانونی و ریٹائرمنٹ فوائد بشمول پینشن، فیملی پینشن، گریجویٹی، کمیوٹیشن اور بقایا جات فوری ادا کیے جائیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ متوفی بشیر حسین کو یکم اکتوبر 2011 کو میونسپل ایڈمنسٹریشن ایبٹ آباد میں فائر مین تعینات کیا گیا تھا، پینشن کےلیے کوالیفائنگ سروس میں 10 ماہ 25 دن کی کمی پر سیکریٹری لوکل گورنمنٹ نے کمی معاف کرنے کی منظوری دی تھی۔
3 فروری 2021 کو مجاز اتھارٹی کی منظوری کے باوجود آڈٹ ڈپارٹمنٹ نے اعتراض لگا کر پینشن کا کیس واپس بھیج دیا تھا۔ جبکہ 4 جون 2021 کو بشیر حسین کی وفات کے بعد ان کی بیوہ نے فیملی پینشن کے لیے قانونی چارہ جوئی کی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پینشن کوئی رعایت، عطیہ یا خیرات نہیں بلکہ ریٹائرڈ ملازم کا قانونی، آئینی اور بنیادی حق ہے، پینشن ملازم کی سالہا سال کی وفاداری، محنت اور خدمت کے بعد حاصل کردہ محفوظ شدہ معاوضہ ہے۔
یہ بھی کہا گیا کہ پینشن آئین کے تحت بنیادی حقوق، انسانی وقار اور زندگی کی بقا سے منسلک ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد ملازم یا اس کے اہلخانہ کو پینشن سے محروم رکھنا آئینی انصاف سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کا کہنا ہے کہ قواعد کی دو تشریحات ممکن ہوں تو وہی تشریح اپنائی جائے گی جو ملازم کے حق اور فائدے میں ہو، پشاور ہائی کورٹ نے فیصلے میں ریکارڈ اور قانون کی متعلقہ شقوں کا درست جائزہ نہیں لیا۔




