سانحہ پمز پر کل تک بہت ساری چیزیں واضح ہوجائیں گی، اعظم نذیر تارڑ

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ سانحہ پمز پر کل تک عبوری انکوائری رپورٹ آجائے گی، جس کے بعد بہت ساری چیزیں واضح ہوجائیں گی، واقعہ کی آزادانہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ انسانی جان کی کوئی تلافی نہیں، زیادہ ضروری بات ذمہ داری کا تعین کرنا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کی تشکیل دی گئی کمیٹی بالکل آزاد ہے، کمیٹی فوٹیج دیکھ رہی ہے کہ کیا اتنا رسپانس ٹائم تھا کہ آکسیجن پر انحصار کرنے والوں کو آکسیجن ہٹا کر جانیں بچائی جاتیں، یہ تیکنیکی سوالات ہیں جن پر کسی قسم کی پیشگوئی نہیں کرنی چاہیے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں جھلس کر جاں بحق 14 نومولود کے والدین غم سے نڈھال ہیں، والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔
دوسری جانب سانحہ پمز پر وزیراعظم شہباز شریف کی تحقیقاتی کمیٹی نے چلڈرن اسپتال کی نرسری کے عملے سے تحریری بیانات طلب کر لیے۔
کمیٹی نے نرسری کی سی سی ٹی وی کا ریکارڈ قبضہ میں لے لیا، نرسری اسٹاف سے سوالات کیے۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی نے سی سی ٹی وی کا جائزہ لیا، آگ کی وجوہات سے متعلق انتظامیہ کے بیان اور سی سی ٹی وی ویڈیو کا موازنہ کیا، پمز ہیلتھ مینجمنٹ کے عملے سے پوچھ گچھ کی۔
کمیٹی پمز انتظامیہ نے 26 اگست کو ڈیوٹی پر موجود عملے کا روسٹر جمع کروایا، جبکہ فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ پیش کی۔
کمیٹی کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سمیت 4افسران نے تحریری بیانات جمع کروائے، کمیٹی 48گھنٹوں میں عبوری تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔




