پی ایم اینڈ ڈی سی نے پائیدار سی ایم ای/سی پی ڈی نظام کی تشکیل کیلئے طبی برادری کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر لیا

پی ایم اینڈ ڈی سی نے پائیدار سی ایم ای/سی پی ڈی نظام کی تشکیل کیلئے طبی برادری کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر لیا

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے آج تین روزہ قومی سی ایم ای/سی پی ڈی استعدادِ کار بڑھانے کی ورکشاپ کا آغاز کر دیا۔ “ہائی امپیکٹ سی ایم ای/سی پی ڈی کی تشکیل: تصور سے تکمیل تک” کے عنوان سے منعقد ہونے والی یہ ورکشاپ 29 اگست 2026 تک جاری رہے گی۔

ورکشاپ کی صدارت پی ایم اینڈ ڈی سی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج کر رہے ہیں، جبکہ اس میں ملک بھر سے ادار وں کے سربراہان، طبی تعلیم کے ماہرین، فیکلٹی ممبران اور میڈیکل و ڈینٹل اداروں کے نمائندگان شرکت کر رہے ہیں۔

ورکشاپ کا افتتاح بطور مہمانِ خصوصی لیفٹیننٹ جنرل وسیم عالمگیر، وائس چانسلر، نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) راولپنڈی نے کیا۔

اپنے افتتاحی کلمات میں پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ پیشہ ورانہ صلاحیت کو برقرار رکھنے اور مریضوں کو معیاری طبی نگہداشت کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مسلسل اور تاحیات سیکھنے کا عمل ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایم اینڈ ڈی سی ایک ایسے قابلِ اعتماد، عملی، شفاف اور پائیدار قومی سی ایم ای/سی پی ڈی نظام کی تشکیل کے لیے پرعزم ہے جو ڈاکٹرز اور ڈینٹسٹس کو اپنے علم میں مسلسل اضافہ، مہارتوں میں بہتری اور پیشہ ورانہ طریقۂ کار کو مزید مؤثر بنانے کے مواقع فراہم کرے۔

صدر پی ایم اینڈ ڈی سی نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد محض ایک اور ضابطہ یا قانونی تقاضا متعارف کروانا نہیں، بلکہ مسلسل سیکھنے اور پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ملک بھر میں ایک قومی سطح پر منظم اور معیار پر مبنی نظام کے قیام کے لیے پی ایم اینڈ ڈی سی، جامعات، میڈیکل و ڈینٹل اداروں، پیشہ ورانہ تنظیموں، صحت کے اداروں اور طبی ماہرین کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے۔

مہمانِ خصوصی لیفٹیننٹ جنرل وسیم عالمگیر نے پی ایم اینڈ ڈی سی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کو طبی سائنس، ٹیکنالوجی اور کلینیکل پریکٹس میں ہونے والی جدید پیش رفت سے باخبر رکھنے کے لیے مسلسل پیشہ ورانہ ترقی انتہائی اہم ہے، جس کے نتیجے میں مریضوں کی نگہداشت کے معیار میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔

ورکشاپ میں سی ایم ای/سی پی ڈی کے مکمل سائیکل پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، جس میں پیشہ ورانہ عملی ضروریات اور تعلیمی خلا کی نشاندہی، تعلیمی ضروریات کا تعین، قابلِ پیمائش تعلیمی اہداف کی تشکیل، تعلیمی پروگراموں کی تیاری، سالمیت اور آزادی، نتائج کا جائزہ، گورننس، دستاویزات، نگرانی اور معیار کی یقین دہانی شامل ہیں۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کا مقصد ایک ایسا شفاف، قابلِ اعتماد اور بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ سی ایم ای/سی پی ڈی فریم ورک قائم کرنا ہے جس کے تحت سی ایم ای/سی پی ڈی سرگرمیوں کی مناسب منظوری، دستاویز بندی، نگرانی اور باقاعدہ طور پر تسلیم کیے جانے کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ نظام پاکستانی ڈاکٹرز اور ڈینٹسٹس کی پیشہ ورانہ ترقی، عالمی سطح پر ان کی شناخت اور روزگار کے بہتر مواقع میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

یہ اقدام پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایکٹ 2022 کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہے، جس میں بالخصوص سیکشن 2(c)، سیکشن 47(2)(k) اور سیکشن 27 شامل ہیں۔ مذکورہ دفعات رجسٹرڈ گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل و ڈینٹل پریکٹیشنرز کے لیے سی پی ڈی کے مواقع اور متعلقہ اداروں کو تسلیم کرنے اور یکساں کم از کم سی پی ڈی معیارات وضع کرنے کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتی ہیں۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں