بانی اور بشریٰ بی بی کی قید تنہائی غیرقانونی قرار دینے کی درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ اور فیملی سے ملاقاتیں کرانے کا حکم دے دیا۔
عدالت عالیہ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی قید تنہائی غیر قانونی قرار دینے کی درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کیا ہے۔
جسٹس خادم حسین سومرو کے 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ اور فیملی سے ملاقاتیں کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالتی فیصلے میں بانی پی ٹی آئی کی واٹس ایپ پر آڈیو اور ویڈیو کالز پر بات کرانے کا بھی حکم دیا گیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ واٹس ایپ کال کی سہولت سیاسی مہم کےلیے استعمال ہونے پر معطل کی جاسکے گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے بانی پی ٹی آئی کو میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے مطابق روزانہ 1 گھنٹے واک کی اجازت دینے کی ہدایت کی۔
عدالت نے کہا کہ سکیورٹی کو بنیاد بناکر بانی پی ٹی آئی کو انسانی تعلق اور بات چیت سے مکمل محروم نہیں رکھا جاسکتا، اڈیالہ جیل انتظامیہ بانی پی ٹی آئی کو اخبارات، میگزین اور کتب کی فراہمی یقینی بنائے۔
عدالت نے درخواست گزاروں کی پیش کردہ کتب سیکیورٹی اسکروٹنی کے بعد فراہم کرنے کا حکم بھی دیا اور کہا کہ میڈیکل بورڈ کی سفارشات اور جیل قوانین کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو ٹی وی کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔
عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ بشریٰ بی بی کو غیرقانونی قید تنہائی میں نہ رکھا جائے، تمام شرائط و ضوابط کا ان پر بھی یکساں اطلاق ہوگا۔
عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیال جیل کو 15 دن کے اندر فیصلے پر عمل درآمد کی رپورٹ ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کی۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل یقینی بنائیں کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھیں۔
علیمہ خانم نے بانی پی ٹی آئی جبکہ مبشرہ مانیکا نے بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔




