جوڈیشل کمیشن کے وینڈر عبداللّٰہ سے میر رضا کے کمرے کی اور گاڑی کی تلاشی سے متعلق سوالات

میر رضا : فائل فوٹو
میر رضا : فائل فوٹو 

میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کے بزنس پارٹنر اور آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کے بیانات قلمبند کیے، وینڈر عبداللّٰہ سے میر رضا کے کمرے اور گاڑی کی تلاشی سے متعلق سوالات کیے۔

جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کے وینڈر عبداللّٰہ کو طلب کیا، جس نے کمیشن کو بتایا کہ ڈیزرٹ شاپ میرے بھائی کا بزنس ہے، میں ان کو چاکلیٹ سپلائی کرتا ہوں۔

کمیشن نے عبداللّٰہ سے سوال کیا کہ کیا آپ کا میر رضا کے گھر میں آنا جانا تھا؟  آپ کو میر رضا کے کمرے کی تلاشی لیتے ہوئے عجیب نہیں لگا؟جس پر عبداللّٰہ نے جواب دیا کہ میر رضا کی والدہ سے پوچھ کر گئے تھے اور والدہ اور بہن ساتھ تھیں، میں کمرے میں گیا تھا لیکن میں نے تلاشی نہیں لی۔

عبداللّٰہ نے بتایا کہ میر رضا کی گمشدگی کے بعد بھائی احمد کو اکیلا چھوڑنا مناسب نہیں لگا، 28 جولائی کو رات 2:30 بجے آخری بار میر رضا سے بات ہوئی تھی۔

جوڈیشل کمیشن نے سوال کیا کہ پستول غائب ہونے والی سی سی ٹی وی ویڈیو کے حصول کا احمد کا بیان درست ہے؟ کیا میر رضا نے آپ کو پیسے دینے تھے؟ جس پر عبداللہ نے کہا کہ میر رضا نے مجھے ساڑھے7 لاکھ روپے دینے تھے، کمیشن نے پوچھا آپ تو وینڈر تھے پھر آپ کو ادائیگی کیوں کرنی تھی؟ جس پر عبداللہ نے بتایا کہ میر رضا نے ڈیجیٹل ٹریڈنگ کے لیے مجھ سے ساڑھے7 لاکھ روپے لیے تھے، کمیشن نے کہا کہ یہ ڈیلنگ تو نجی نوعیت کی ہے، بزنس سے تو کوئی تعلق نہیں، اور پوچھا کہ آپ نے میر رضا کی فیملی سے 22 ہزار روپے دینے کا کہا؟ عبداللّٰہ نے جوڈیشل کمیشن کو جواب دیا کہ  مشکل وقت میں میں ایسی بات کیوں کروں گا؟ 

میر رضا کی والدہ نے جوڈیشل کمیشن کو بتایا کہ ہمیں تو ادائیگی کی معلومات ہی نہیں تھی، عبداللّٰہ نے بتایا تو مالیت کا معلوم ہوا، جوڈیشل کمیشن نے عبداللّٰہ سے پوچھا کہ آپ نے رضا کی گاڑی چیک تھی؟ اور گاڑی سے کوئی چیز نکالی تھی؟ جس پر عبداللّٰہ نے جواب دیا کہ مجھے میر رضا کی بہت فکر تھی، میرے لیے وہ میرے بھائی جیسا تھا، فیملی کے بعد اگر کسی کو فکر تھی تو وہ ہمیں تھی۔

جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ یہ بات نہ کریں آپ لوگ قدم قدم پر پیسے مانگ رہے تھے، آپ نے ادائیگی سے متعلق نوٹس کی نقل کیوں کی؟ عبداللہ نے کہا کہ پچھلے برس بھی میر رضا اچانک غائب ہوگیا تھا۔

میر رضا کی والدہ نے بتایا کہ عبداللّٰہ میر رضا کے فنانشل ایڈوائزر تھے، عبداللّٰہ نے کبھی بھی ہمیں کچھ نہیں بتایا۔

وکیل جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا سے بات کرنے کے بعد عبداللّٰہ کا فون ڈھائی گھنٹوں تک بند تھا، جس پر عبداللہ نے کہا کہ دن کے اوقات میں فون کا استعمال بہت ہوتا ہے، مجھے 36 گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا، جواب میں جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ آپ کے وکیل بہت قابل ہیں وہ یہ معاملہ دیکھ لیں گے۔

کمیشن نے ایس ایچ او گلستان جوہر کامران قریشی اور ہیڈ محرر ذیشان کو بھی آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا، اور کارروائی 7 ستمبر تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔

مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔

میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی 4 اگست کو جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں کی گئی تھی۔

پروگرام میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد کے سامنے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ پروگرام میں بات کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد، دونوں نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

بعد ازاں عدالتی حکم کے بعد میر رضا کی 8 اگست کو قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد اسی دن دوبارہ تدفین کردی گئی۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی، جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے، میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، سر اور چہرے پر زخموں کے متعدد نشانات پائے گئے، جسم پر کالے دھبے بھی تھے۔

رپورٹ کے مطابق میر رضا کے پاؤں پر بھی زخم کے نشان ہیں، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے ہیں، رپورٹ میں میر رضا کی دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم کی نشاندہی ہوئی ہے۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جبڑے کے حصے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد ملے ہیں، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائی گئیں۔



50% LikesVS
50% Dislikes
September 2026
M T W T F S S
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
282930  

اپنا تبصرہ بھیجیں