خطے و مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیکیورٹی صورتِحال پر گہری تشویش ہے: اسحاق ڈار

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ خطے اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیکیورٹی صورتِ حال پر گہری تشویش ہے۔
اقتصادی تعاون تنظیم وزراء کونسل کے 27 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 27-2026ء کے لیے اقتصادی تعاون تنظیم وزرائے کونسل کی سربراہی سنبھال لی، علاقائی تعاون کو مؤثر بنانے کے لیے مکالمے سے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہو گا۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ خطے کو زیادہ مربوط، متحرک اور مسابقتی بنانا ای سی او کا مشترکہ ہدف ہے، اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تجارت مجموعی علاقاتئی تجارت کا تقریباً 8 فیصد ہے، اقتصادی تعاون تنظیم کے خطے میں تقریباً 50 کروڑ افراد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امن، لچک، یکجہتی اور مشترکہ خوش حالی کے فروغ کے لیے اجتماعی قوت بروئے کار لانا ہو گی۔
وزیرِ خارجہ کے مطابق پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پُرعزم ہے، پاکستان نے برادر ممالک کے ساتھ مل کر پُرامن نتائج کے لیے سفارتی کوششیں کی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان علاقائی اقتصادی انضمام اور باہمی تجارت کے فروغ کو ترجیح دے گا، وسطیٰ ایشیاء کو بحیرۂ عرب کی بندرگاہوں سے ملانے والے اہم راہداری منصوبوں کو تیز کرنا ہو گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی خطے کی آبی سلامتی، زراعت اور روزگار کے لیے سنگین خطرہ ہے، موسمیاتی مزاحمت رکھنے والے بنیادی ڈھانچے اور پائیدار توانائی پر تعاون مضبوط کرنا ہو گا، پاکستان خطے کے لیے گیٹ وے کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان ای سی او کے تجارتی معاہدے کو مزید مؤثر بنانے کا خواہاں ہے، ای سی او کے آزاد تجارتی علاقے کو فعال اور ڈیجیٹل بنانے کی جانب پیش رفت کرنا ہو گی، آزاد تجارتی منڈیوں تک رسائی بڑھانے، کاروبار کے فروغ اور جدت کے لیے معاون ہو گا۔
وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ افغان سر زمین سے ہونے والی دہشت گردی علاقائی امن، استحکام اور ترقی کی کوششوں کو متاثر کر رہی ہے، پاکستان ایک پُرامن، خوش حال اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے ، ہم نے طالبان حکومت کے ساتھ تعمیری روابط کو کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت سے پاکستان کی واحد توقع اپنے جائز سیکیورٹی خدشات دور کرنا ہے، افغانستان سے لاحق دہشت گردی کے خطرے کے خاتمے کے بغیر خطے میں امن و ترقی ممکن نہیں۔




