خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ نہیں: امیر مقام
وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خاتمے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔
اپنے بیان میں انجینئر امیر مقام نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی مذمت کی۔
اپنے بیان میں وزیراعظم کے کو آرڈینیٹر اختیار ولی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اپنی آئینی ذمے داریوں کا کوئی خیال نہیں، بتایا جائے کہ کیا صوبے کا وزیر اعلیٰ ایسا ہوتا ہے؟
رکن قومی اسمبل ثمر ہارون بلور نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں وزیراعلیٰ کے پی کی غیر سنجیدگی قابل مذمت ہے، دہشت گردی کے باوجود اسلام آباد کی کال دینا قابل افسوس ہے۔
علی خان یوسفزئی کا کہنا تھا کہ صوبے کی پولیس کو بےیارو مددگار چھوڑ دیا گیا، ہمارا سوال یہ ہے کہ 804 ارب روپے کہاں گئے۔
ارباب خضر حیات نے کہا کہ خیبر پختونخوا جل رہا ہے، انہیں اسلام آباد پر چڑھائی کی پڑی ہوئی ہے جبکہ مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔
جلال خان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہمارے صوبے پر نااہل حکومت مسلط ہے، انتشاری ٹولے سے صوبے کے عوام کو نجات دلائی جائے۔
ثوبیہ خان نے کہا کہ گزشتہ 13سال میں صوبے پر حکومت کرنے والے دہشت گردی روک نہ سکے۔




