خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق فیصلہ محفوظ

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ---فائل فوٹو
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ—فائل فوٹو  

الیکشن کمیشن نے خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن میں سماعت کے دوران اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے بتایا کہ صوبے کے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں جہاں کمیشن اپنے حکم کے ذریعے بلدیاتی انتخابات کروا سکتا ہے۔ 

انہوں نے تجویز دی کہ باقی 16 اضلاع میں حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کیا جائے اور جہاں حلقہ بندیاں مکمل ہیں، وہاں انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کیا جائے۔

سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ جہاں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں، وہاں انتخابات کروائے جا سکتے ہیں، خیبر پختون خوا اسمبلی نے قانون میں ترمیم کر کے انتخابی حلقوں میں آبادی کی حد بڑھا دی ہے جس سے حلقہ بندیوں کے عمل میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ کیوں ہونی چاہیے؟ جبکہ دنیا میں جنگوں اور ایمرجنسی کے دوران بھی انتخابات ہوتے رہے ہیں۔

صوبائی حکومت کا مؤقف

خیبر پختون خوا کے مشیرِ قانون عامر جاوید نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتِحال انتخابات کے انعقاد میں بڑی رکاوٹ ہے اور پورے صوبے میں ایمرجنسی نافذ ہے، صوبے کے 36 اضلاع میں سے 12 میں آئین کے آرٹیکل 140 اے کا اطلاق نہیں ہو سکتا اور وہاں بلدیاتی نظام قابلِ اطلاق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان 12 اضلاع میں سے 6 میں حلقہ بندیاں نہیں ہوئیں جبکہ باقی 24 اضلاع میں سے 16 میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں، صوبائی اسمبلی نے نجی بل کے ذریعے قانون میں ترمیم کی جس کے بعد موجودہ قانون میں ابہام پیدا ہو گیا ہے۔

مشیرِ قانون کے مطابق صوبائی حکومت اب قانون میں مزید ترمیم نہیں کر سکتی اور ہر ترمیم قومی اسمبلی کو بھیجنا ہو گی۔

انہوں نے امن و امان کی صورتِحال کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں بنیادی مسئلہ قرار دیا۔

ایمرجنسی انتخابات میں رکاوٹ نہیں: چیف الیکشن کمشنر

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے استفسار کیا کہ کیا ایمرجنسی کے نفاذ سے انتخابات نہیں ہو سکتے؟ اگر معمول کی ایمرجنسی سے انتخابات پر فرق نہیں پڑتا تو وہاں پولنگ کروائی جا سکتی ہے۔

اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن ارشد خان نے کہا کہ جہاں ایمرجنسی نافذ ہے، وہاں امن و امان کا مسئلہ ہے، ایسے اضلاع میں لوگ ووٹ ڈالنے کیسے آئیں گے اور پولنگ کے عملے کی سیکیورٹی کیسے یقینی بنائی جائے گی؟

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ قانون میں یونین کونسلوں کی تعداد بھی مقرر ہے اور آبادی کی حد بھی بڑھا دی گئی ہے، اگر ان دونوں قانونی تقاضوں پر عمل ممکن نہیں تو الیکشن کمیشن کیا کر سکتا ہے؟

اس پر اسپیشل سیکریٹری نے کہا کہ کمیشن کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔

 جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کو حل کر سکتا ہے۔

سیاسی جماعتوں پر انتخابات سے گریز کا الزام

سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور موجودہ سیاسی نظام انتخابات کے انعقاد میں دلچسپی نہیں رکھتے، عوام سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن انتخابات نہیں کراونا چاہتا حالانکہ سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات نہیں کروانا چاہتیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بھی وفاقی حکومت بلدیاتی انتخابات نہیں کروانا چاہتی تھی، الیکشن کمیشن نے وہاں انتخابات کا اعلان کر دیا، دیگر صوبوں میں بھی اسی نوعیت کے مسائل درپیش ہیں، اگر قومی اسمبلی قانون میں دوبارہ ترمیم کرتی ہے تو الیکشن کمیشن اس معاملے کو بھی دیکھ لے گا۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اپنا کام کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔

الیکشن کمیشن نے خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں