فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ کیس؛ سلمان اکرم راجہ نے پی ٹی آئی کی غلطی کا اعتراف کرلیا
اسلام آباد:سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران وکیل سلمان اکرم راجہ نے 21ویں آئینی ترمیم پر پی ٹی آئی کی ملٹری کورٹس کے قیام کی حمایت کو غلطی قراردیدیا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت جاری ہے،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی بنچ سماعت کررہا ہے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ میں عدالت میں کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ 21ویں آئینی ترمیم ہوئی تب آپ کی پارٹی نے ملٹری کورٹس کے قیام کی حمایت کی، یوں کہہ دیتی ہوں ایک سیاسی جماعت نے 21ویں آئینی ترمیم کے تحت ملٹری کورٹس کی حمایت کی،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ اس وقت انہوں نے غلط کیا تھا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ یہی کیا بات ہوئی، اب اپوزیشن میں آ کر کہہ دیں ماضی میں جو ہوا غلط تھا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ اکیسویں آئینی ترمیم میں ایک نکتہ اچھا تھا کہ سیاسی جماعتوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا، جسٹس عظمت سعید کی اللہ مغفرت فرمائے، انہوں نے 21ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ لکھا تھا۔



