آپریشن سندور کتنی دیر جاری رہا اور اہداف دراصل کیا تھے؟ بھارت کا موقف آگیا

اسلام آباد: بھارت کو اپنی فضائی حدود میں رہ کر پاکستان میں کارروائی کرنا مہنگاپڑا ہے اور دفاعی کارروائی کے دوران طیارے بھی تباہ کروا بیٹھا ہے اور اس آپریشن کو سندور کا نام دیا تھا ، اب بھارتی حکام نے بتایا ہے کہ یہ آپریشن پچیس منٹ تک جاری رہا۔
دونوں ممالک کی فضائی کارروائی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں ہندوستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے کارروائی کرنے میں ناکامی کے بعد کالعدم تنظیم کے “دہشت گردانہ بنیادی ڈھانچے” کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم بھارتی حکام کے اس دعوے کی پاکستان سے تصدیق نہیں ہوسکی ۔
کرنل صوفیہ قریشی نے بتایا کہ آپریشن جسے ’’آپریشن سندور‘‘ کا نام دیا گیا ہے، مقامی وقت کے مطابق صبح 1.05 سے 1.30 بجے تک 25 منٹ تک جاری رہا۔سی این این کے مطابق بریفنگ کا آغاز بھارت پر برسوں کے دوران ہونے والے حملوں کے بعد کی ویڈیو مانٹیج کے ساتھ ہوا جس کا الزام نئی دہلی نے اپنے پڑوسی پاکستان پر عائد کیا ہے اور جس کی پاکستان نے طویل عرصے سے تردید کی ہے، بھارتی حکام نے اس فوٹیج کو بھی دکھایا جو ان کے بقول پاکستان میں اہداف پر حملے تھے۔
ہندوستانی سکریٹری خارجہ وکرم مصری نے ایک بار پھر پاکستان کو ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں عام شہریوں پر حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا ، ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ اہداف کا انتخاب “انٹیلی جنس” کی بنیاد پر کیا گیا تھا اور انہیں مستقبل میں بھی بھارت پر حملے کی اطلاعات تھیں۔
صوفیہ قریشی نے کہا کہ آپریشن میں کسی فوجی تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی پاکستان میں شہری ہلاکتوں کی کوئی اطلاع ہے تاہم جب وہ پریس کانفرنس کررہی تھی، اس وقت تک پاکستانی حکام نے عام شہریوں کی شہادت کی تصدیق کردی ہوئی تھی ۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی فوج کی کارروائی میں کم از کم 26 شہری مارے گئے۔



