“دبئی سے جہلم تک: برطانوی یوٹیوبر نے ایئرپوڈز کی بازیابی کا مشن مکمل کر لیا”

“دبئی سے جہلم تک: برطانوی یوٹیوبر نے ایئرپوڈز کی بازیابی کا مشن مکمل کر لیا”

“دبئی سے جہلم تک: برطانوی یوٹیوبر نے ایئرپوڈز کی بازیابی کا مشن مکمل کر لیا”
تحریر: زبیر محمود

یہ کوئی فلمی کہانی نہیں، بلکہ حقیقت ہے۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے یوٹیوبر “لارڈ مائلز” نے اپنی چوری شدہ ایئرپوڈز پرو کو تقریباً ایک سال بعد پاکستان کے شہر جہلم سے بازیاب کروا لیا — اور وہ بھی بذریعہ “Find My” ایپل فیچر کے۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ مائلز کی ایئرپوڈز دبئی میں چوری ہو گئی تھیں۔ زیادہ تر لوگ اس کے بعد بھول جاتے، لیکن مائلز نے نہیں بھولا۔ اس نے ایپل کی ٹریکنگ فیچر آن کی اور مہینوں تک اپنی ایئرپوڈز کی لوکیشن دیکھتا رہا۔ پھر ایک دن پتہ چلا کہ یہ ایئرپوڈز اب پاکستان کے شہر جہلم میں “2nd Wife Restaurant” کے قریب موجود ہیں۔

مائلز نے فوراً ٹوئٹر پر اعلان کیا:
“میری ایئرپوڈز ایک سال سے پاکستان میں گم تھیں، اور اب میں اگلے ہفتے جا رہا ہوں واپس لینے!”

اور وہ گیا۔

مائلز پاکستان آیا، جہلم پولیس سے رابطہ کیا، اور ایک باقاعدہ ’مشن‘ کے تحت ایئرپوڈز کی بازیابی کی کارروائی شروع کی۔ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ پولیس افسر کے ساتھ ہاتھ ملا رہا ہے، اور دوسرے ہاتھ میں فخریہ انداز میں اپنی ایئرپوڈز تھامے ہوئے ہے۔

فیس بک پر ایک پوسٹ وائرل ہوئی جس میں کسی صارف نے لکھا:
“بھائی واقعی بلوٹوتھ کے لیے سرحد پار کر گیا!”

یہ واقعہ نہ صرف تفریحی اور دلچسپ ہے بلکہ یہ ایپل کی ٹیکنالوجی اور پاکستانی پولیس کی مستعدی پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔
جہلم پولیس کی پیشہ ورانہ کارروائی نے ایک بین الاقوامی مسئلے کو حل کر کے داد سمیٹی ہے۔

مائلز نے مذاقاً کہا:
“میں ایئرپوڈز لینے آیا تھا، لیکن ایک کہانی لے کر واپس جا رہا ہوں!”

دبئی میں ہونے والی ایک چھوٹی چوری، ایک عالمی تعاقب میں بدل گئی، جس نے دنیا بھر میں لوگوں کو ہنسا دیا اور سوچنے پر بھی مجبور کیا کہ کبھی کبھار چھوٹی چیزیں بھی بڑی مہمات بن جاتی ہیں۔

اب چور حضرات شاید دو بار سوچیں گے — کیونکہ کبھی کبھار، کوئی واقعی اپنی بلوٹوتھ ڈیوائس لینے سرحد پار آ جاتا ہے۔

زُبیر محمود
سینئر رپورٹر – ٹیکنالوجی و کلچر

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں