غزہ میں اسرائیلی جنگ کے بعد میشت تباہ، غربت اور بے روزگاری میں تاریخی اضافہ
کراچی (نیوز ڈیسک) غزہ میں اسرائیلی جنگ کے بعد معیشت تباہ، غربت اور بے روزگاری میں تاریخی اضافہ ہوا ہے، لاکھوں فلسطینی بے گھر، روزگار کے مواقع ناپید، مجموعی معیشت 87 فیصد گر چکی، فی کس آمدنی صرف 161 ڈالر، غذائی بحران نے زندگی کو مزید مشکل بنا دیا۔ چھوٹے اور درمیانے کاروبار، مارکیٹ کی ضابطہ بندی اور پیداواری شعبوں کو دوبارہ قائم کرنیکی ضرورت، یہ تبھی ممکن ہے جب اسرائیل کی طرف سے تمام بارڈرز کھلے ہوں۔ عرب میڈیا کی خصوصی رپورٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے بعد معیشت تقریباً تباہ ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں غربت اور بے روزگاری کی شرح تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو کر اقلیتی کیمپوں اور اسکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ علاء الزنین اور ان کے اہل خانہ جیسے خاندان بار بار بے گھر ہوئے اور اب ایک چھوٹے خیمے میں سردی اور بارش سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ علاء جیسے عام مزدور روزگار سے محروم ہیں، اور ہزاروں افراد کی آمدنی کا ذریعہ بند ہو چکا ہے۔ غزہ کی معیشت نے پچھلے دو سال میں 87 فیصد کمی دیکھی ہے اور فی کس آمدنی صرف 161 ڈالر رہ گئی، جو دنیا میں سب سے کم سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔ نجی شعبہ اور چھوٹے کاروبار پہلے معیشت کے اہم ستون تھے، لیکن اب زرعی، صنعتی اور خدماتی شعبے تقریباً تباہ ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق امدادی سامان محدود اور ناکافی ہے، جبکہ 90 فیصد بنیادی ڈھانچے اور رہائشی سہولیات تباہ ہو چکی ہیں۔




