کراچی فائر بریگیڈ بغیر وائرلیس اپنا کام کر رہا ہے، سانحہ گل پلازا کی تحقیقات کے دوران انکشاف

سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ کراچی فائر بریگیڈ بغیر وائرلیس اپنا کام کر رہا ہے۔
جوڈیشل کمیشن اس انکشاف پر کہ کراچی فائر بریگیڈ کے پاس وائرلیس سسٹم ہی نہیں، حیران رہ گیا۔
فائر بریگیڈ نے بتایا کہ وہ لوگ اطلاع کے لیے موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔ اگر جیمر لگے ہوں تو فائر بریگیڈ کا عملہ لینڈ لائن ڈھونڈ کر رابطے کرتا ہے۔
سینٹرل فائر اسٹیشن کے انچارج محمد توفیق نے مزید بتایا کہ ان کی پانی کی لائن میں ہفتے کو پانی کا ناغہ ہوتا ہے۔ پانی کی لائن میں پہلے ایک گھنٹے سیوریج ملا پانی آتا ہے جسے ضائع کرنے کے بعد صاف پانی حاصل ہوتا ہے۔ اس لائن میں پانی کا پریشر بھی کم ہوتا ہے۔
بعد ازاں سول ڈیفنس کے ٹیکنیکل انسٹرکٹر مرسلین بیگ کے بیان پر چیف فائر افسر نے جرح کی۔ چیف فائر افسر نے سوال کیا کہ فائر ٹیموں پر فوم استعمال نہ کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے جس پر مرسلین بیگ نے کہا کہ گل پلازہ میں کلاس بی نوعیت کی آگ تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر ٹیمیں عمارت کے اندر داخل ہوتیں تو آگ کی اصل نوعیت کا بہتر اندازہ ہوسکتا تھا۔ مرسلین بیگ نے کہا کہ پانی کے استعمال کے باوجود آگ کا قابو میں نہ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پانی مؤثر ثابت نہیں ہو رہا تھا۔
ان کے مطابق فوم یا کیمیکل اس لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ جلنے والے مواد تک آکسیجن کی رسائی روکی جا سکے۔
چیف فائر افسر نے کہا کہ سول ڈیفنس نے گل پلازہ کا فائر آڈٹ کیا تھا اور انتظامات کو ناکافی قرار دیا تھا، تاہم عدالتیں قائم ہونے کے بعد چالان کیوں جمع نہیں کروائے گئے۔
جسٹس آغا فیصل نے انہوں ٹوکتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس سوال کا گواہ کے بیان سے تعلق نہیں، آپ صرف ان کے بیان پر جرح کریں۔




