تاجر عامر اعوان کے قتل میں ملوث ملزمان گرفتار، گینگ کا تعلق کے پی سے ہے: طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ڈکیتی کی واردات کے دوران تاجر عامر اعوان کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے، گینگ کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔
اسلام آباد میں آئی جی اسلام آباد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے، کاروباری شخصیت عامر شہزاد کا قتل افسوسناک واقعہ ہے، واقعے کو 24 گھنٹے ہونے سے پہلے تمام ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عامر اعوان کو ڈکیتی کی واردات کے دوران قتل کیا گیا۔ واقعے میں منصور خان گینگ ملوث ہے، جو بلٹ پروف جیکٹ والا گینگ سے مشہور ہے۔ خیبر پختونخوا کے جس علاقے میں یہ ہیں وہاں پولیس بھی نہیں جاتی تھی۔
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ گینگ میں افغان شہری بھی شامل ہیں۔ ہم نے ملزمان کو کراچی سے خیبر کے درمیان سے پکڑا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری پولیس کے پاس وسائل کی بہت کمی تھی، نہ یہاں فارنزک لیب تھی اور نہ ہی سیف سٹی مکمل تھا، ان مسائل کو بیک وقت ایڈریس کرنا شروع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کی نسبت 63 فیصد بڑے جرائم میں کمی واقع ہوئی۔
طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد پاکستان کا پہلا اسمارٹ سٹی بنے گا، سیف سٹی نہیں اسلام آباد کو ہم پہلا اسمارٹ سٹی بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی واقعہ ہو، چاہے موٹرسائیکل چوری ہو یا قتل، وزارت داخلہ اس پر نظر رکھتی ہے۔

اس موقع پر آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کا کہنا تھا کہ یہ کیس پورے پاکستان لیول کا کیس تھا، جس جگہ یہ واقعہ ہوا وہ بہت پروٹیکٹڈ جگہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کےلیے 6 جگہوں کی جیو فینسنگ کی گئی، پولیس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے قاتلوں تک پہنچی۔ 137 کالز ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ اس کیس میں آرٹیفیشل انٹیلیجینس (اے آئی) کو بھی استعمال کیا گیا۔
آئی جی اسلام آباد نے مزید کہا کہ کیس سے متعلق 93 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ چارسدہ، مردان، راولپنڈی، اسلام آباد میں چھاپے مارے گئے۔ چارسدہ سے منصور خان ڈکیت گینگ کا سرغنہ پکڑا گیا۔ یہ گینگ پورے طریقے سے تیار ہو کر آتا تھا۔
ان کا کہان تھا کہ گینگ میں 2 افغان شہری شامل ہیں، عامر اعوان کے گارڈ سے گینگ نے کلاشنکوف چھینی، گارڈز کے موبائل بھی لے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ معروف تاجر عامر اعوان کے قاتلوں کی گرفتاری ایک بہت بڑا چیلنج تھی۔




