نائلہ رند کیس کا محفوظ فیصلہ سنادیا گیا، انیس احمد خاصخیلی تمام الزامات سے بری

نائلہ رند کیس کا محفوظ فیصلہ سنادیا گیا، انیس احمد خاصخیلی تمام الزامات سے بری
فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ نے سندھ یونیورسٹی کی طالبہ نائلہ رند کیس کا محفوظ فیصلہ سنادیا، عدالت نے انیس احمد خاصخیلی کو تمام الزامات سے بری کردیا۔

عدالت عالیہ کے جسٹس عمر سیال اور جسٹس محمد عبدالرحمان نے 26 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔ 

سندھ ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کی بریت کا حکم دیا، حکم نامہ میں کہا گیا کہ انیس احمد خاصخیلی کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں تو فوری رہا کیا جائے۔

عدالت نے قرار دیا کہ انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت ملزم کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوا، ملزم کی طرف سے دھمکیاں دے کر دباؤ ڈالنے سے متعلق بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ انیس احمد خاصخیلی کی جانب سے کسی غیر قانونی عمل کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

خیال رہے کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 30 جنوری 2023 کو انیس احمد خاصخیلی کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ ماتحت عدالت نے عمر قید، جرمانہ اور پیکا ایکٹ کے تحت بھی سزا سنائی تھی۔

پولیس کے مطابق نائلہ رند کی پھندا لگی لاش یکم جنوری 2017 کو سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹل سے ملی تھی۔ واقعے کے مقدمے میں نامزد یونیورسٹی کے سابق طالب علم انیس احمد خاصخیلی کو 5 روز بعد گرفتار کیا گیا تھا۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں