کشمیر پر وزیر دفاع کا بیان کیا حکومتی پالیسی ہے؟ وزیراعظم وضاحت دیں، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو وفاقی کابینہ سے نکالنے کا مطالبہ کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر وزیر دفاع کا بیان وفاقی حکومت کی پالیسی ہے یا نہیں؟ وزیراعظم شہباز شریف کو اس پر وضاحت دینی چاہیے۔
ڈڈیال میں جلسے سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں احتجاج کرنے والے غلط ہوں گے لیکن سزا پورے کشمیر کو مل رہی ہے، جس نے غلطی کی ہے اس کو پکڑو، سزا دو، چند لوگوں کے جرم کی سزا سب کو کیوں دے رہے ہو؟
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جب سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے تو غیر جمہوری قوتیں آجاتی ہیں، احتجاج کرنے والوں اور حکومت سے مطالبہ ہے کہ عام کشمیریوں کو تکلیف نہ دیں، اگر ریاست پاکستان ہرمز کھلوا سکتی ہے تو ان کی گزارش ہے کہ کشمیر کو کھولیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی تاریخ کے یہ سب سے اہم انتخابات ہیں، یہ انتخابات ریاست پاکستان کے لیے ایک امتحان ہے، سیاستدانوں کا کام عوام اور دارالحکومت کے درمیان فاصلہ کم کرنا ہے، ہم سیاستدانوں نے کمشیر کے عوام کی آواز اسلام آباد تک پہنچانی ہے، جس طرح کشمیر کے عوام کی آواز پہنچانی چاہیے تھی ہم سیاستدانوں نے وہ کام نہیں کیا، اس الیکشن میں عوام کے پاس موقع ہے کہ کشمیر کے عوام پیپلزپارٹی کو یہ ذمہ داری دیتے ہیں تو وعدہ ہے آپ کی آواز بنوں گا، ایسا کوئی مسئلہ نہیں جو سیاسی اور پرامن انداز میں حل نہ کیا جا سکے۔
پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ آج جو حالات ہیں ہر کشمیر اور ہر پاکستانی پریشان ہے، بے نظیر بھٹو نے سکھایا ہے کہ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خوان گرے گا، کشمیر کی مائیں بہنیں روتی ہیں تو ہمارے خون کے آنسو نکلتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے عوام کے تمام مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کرنے والوں نے مجھے خط لکھا تو میں نے تجویز پیش کی، میں نے تجویز پیش کی کہ ٹروتھ اینڈ ری کنسلیئشن کمیشن قائم کرنا چاہیے، یہ کمیشن قائم کیا جائے تو احتجاج کرنے والوں سے کہوں گا کہ احتجاج روک دیں، میری تجویز پر ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا، اس انداز میں احتجاج جس کے نتیجے میں غذائی اشیا نہ پہنچ سکیں تو اس کا نقصان عوام کو ہے، حکومت کی رٹ قائم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں عام کشمیریوں کو کاروبار اور معمولات میں کوئی پریشانی نہ ہو، جب تک کمیشن اپنا کام مکمل نہ کرلیے، دونوں فریق کو کشمیر کے عوام کو ریلیف دینا چاہیے، کشمیر کے عوام سے ہمارا رشتہ تین دہائیوں پر مشتل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حق ملکیت ،حق حکمرانی اورحق روز گار ہمارے منشور میں شامل ہے، بطور وزیر خارجہ کشمیری عوام کی آواز دنیا بھر تک پہنچائی تھی، مودی کو گجرات کا قصائی کہا تھا جس پر بھارت نے میرے سر کی قیمت لگائی تھی، ہم تین نسلوں سے عوام کی جدوجہد کے لیے لڑتے آرہے ہیں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر آج بھی انتظار میں ہیں کہ کب انہیں اپنا حق ملے گا۔
پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان میں عوام کو ہر طرح کے حقوق پیپلز پارٹی نے دیے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حقوق پر آنچ نہیں آنے دیں گے، آئین سازی زبردستی یا سڑک پر نہیں پارلیمان میں مشاورت سے ہوتی ہے، آئین سازی صرف پیپلز پارٹی کو آتی ہے باقی کسی کو نہیں آتی، کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے عوام کے سوا کوئی نہیں کرسکتا، ہمیں اتنی اصلاحات تو ضرور کرنی چاہیے کہ کمشیر کا فیصلہ یہاں کے عوام کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو وضاحت کرنی چاہیے کیا وفاقی حکومت کی پالیسی ہے جو وزیردفاع کہہ رہا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک دوسرا وفاقی وزیر کہتا ہے کہ کشمیر کی 12 نشستیں ہماری جیب میں ہیں، بیان کے 30 دن گزرنے کے باوجود وہ وفاقی وزیر اپنی جگہ پر موجود ہیں، اگر آپ کشمیریوں کو کشمیری نہیں مانتے تو آپ کو وزارت پر بیٹھنے کا حق نہیں۔
پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ جب ان کی سوچ یہی ہوگی تو ان کو کوئی پروا نہیں ہوگی کہ کوٹلی، راولا کوٹ سے کون کامیاب ہوگا، کشمیر کا فیصلہ نہ کسی کی جیب میں ہے یہ صرف کشمیر کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے، صرف آزاد کشمیر نہیں پاکستان میں مہاجرین نشستوں پر آخری الیکشن ہے ان پر بھی پیپلز پارٹی کو جتوانا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ الیکشن کے بعد آئینی کنونشن کروائیں گے، تجویز عوام دیں گے، مہاجرین کی نشستوں اور ووٹ کا فیصلہ آئین ساز ادارے کریں گے، آزاد کشمیر کا ایک وزیرخارجہ ہو جو نیشنل اسمبلی میں بیٹھے، ہم کشمیریوں کی زمین پر بھارت کے قبضے کی کوشش ناکام بنائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں کو اُن کے حقوق دینے ہوں گے، کشمیر اور گلگلت بلتسان کے لوگ اب پرانی تنخواہ پر چلنے کے لیے تیار نہیں، ہم کشمیریوں کے حقوق کسی صورت سلب نہیں ہونے دیں گے، قائد عوام نے آپ کو حقوق دلوائے، شہید بی بی نے بھی آپ کو حقوق دلوائے، آپ کے جو حقوق رہ گئے ہیں وہ میں اور آصفہ بی بی آپ کو دلوائیں گے۔




