پیٹرول، بجلی و مہنگائی پر حکومت شدید تنقید کا نشانہ، جماعت اسلامی کا 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، مہنگائی، بجلی، معیشت اور سیاسی صورتحال پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے 7 اگست کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کر دیا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان میں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے مہنگا پیٹرول فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ ایکس ریفائنری قیمت کے لحاظ سے بھی پیٹرول مہنگا ہے، قیمتیں بڑھانے کا سلسلہ روزانہ جاری ہے لیکن کمی کی جاتی ہے تو صرف چند پیسے کم کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے پیٹرولیم لیوی کو ’ظلم‘ اور ’جَگا ٹیکس‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی مہنگی ہو جاتی ہیں اور حکومت تمام بوجھ عام آدمی پر ڈال رہی ہے، دنیا بھر میں ایسے حالات میں معاشی ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے جبکہ یہاں حکمراں ہر معاملے پر آئی ایم ایف پروگرام کا جواز پیش کرتے ہیں اور قوم کو مشکلات میں دھکیل رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے سے زیادہ بجلی نہ بنانے پر اخراجات کیے گئے جس کے منفی اثرات عوام پر پڑ رہے ہیں، عوام کو متحد ہو کر فیصلہ کرنا ہو گا، اسی لیے 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔
آزاد کشمیر کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے اگرچہ فوری حل نظر نہیں آرہا، کشمیر کے لوگ ہمارے اپنے ہیں، ثالثی کی بات کرنا غلط نہیں تاہم افسوس ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت اور وفاقی حکومت نے مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔
انہوں نے بلوچستان میں کوئلے کی کان کے حادثے میں مزدوروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مزدوروں کے لیے حفاظتی اقدامات کا فقدان ہے، جبکہ خیبر پختون خوا کی صورتِ حال بھی تشویش ناک ہے۔
سیاسی معاملات پر انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے جا رہے جبکہ سندھ میں بھی بلدیاتی انتخابات 4 مرتبہ ملتوی ہونے کے بعد ہوئے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا اور غیر ضروری معاملات زیرِ بحث لائے جا رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان نورا کشتی جاری ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کے فارم 47 سے متعلق بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی فارم 47 کی پیداوار ہیں اور جب اقتدار میں حصہ کم ہوتا ہے تو شور مچایا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ منتخب نمائندوں کو اقتدار سنبھالنے دیا جائے تو نظام بہتر ہوسکتا ہے، انسانوں کی منڈی لگانا آئینی راستہ نہیں، تمام سیاسی قوتوں نے مل کر نظام کو خراب کیا ہے، صرف بیانات سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔




