میر رضا علی کیس، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا خط، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 14 سنگین خامیوں کی نشاندہی
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 14 سنگین غلطیوں کی نشاندہی کردی۔
پولیس سرجن سمعیہ سید نے ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ کو خط لکھ دیا جس میں انہوں نے ڈاکٹر اسامہ شیخ کی بنائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 14 سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔
اپنے خط میں ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا تھا کہ لاش کے ایکسرے نہیں کیے گئے۔ انٹری زخم پر موجود بارود کے نشانات کا کیمیکل تجزیہ نہیں کیا گیا۔ کھوپڑی اور گردن کا اندرونی معائنہ بھی نہیں کیا گیا۔
انہوں نے تحریر کیا کہ زخموں کی پیمائش کے لیے اسکیل استعمال کیا گیا نہ ہی فارنزک معیار کے مطابق تصاویر لی گئیں۔ انٹری اور ایگزٹ زخموں کی ہڈیوں کے نشانات کے مطابق وضاحت موجود نہیں۔ لاش کے ڈی کمپوزیشن کی نوعیت بھی واضح نہیں کی گئی۔
خط میں کہا گیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انٹری زخم کا سائز ایگزٹ زخم سے نمایاں بڑا درج ہے۔ انٹری ایگزٹ زخم کی دوبارہ جانچ اور تصدیق ضروری تھی۔ چہرہ ناقابل شناخت ہونے کے باوجود شناخت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے سیمپل حاصل نہیں کیا گیا۔




