میر رضا کے 3 بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات موصول، دو خالی، ایک میں 8 ہزار ٹرانسفر کیے تھے

میر رضا کے 3 بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات موصول، دو خالی، ایک میں 8 ہزار ٹرانسفر کیے تھے

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں 29 جون کو مردہ حالت میں ملنے والے نوجوان میر رضا علی کے 3 بینک اکاونٹس کی تفصیلات موصول ہوگئیں۔ 

میر رضا کے نجی بینک کے ایک اکاؤنٹ کی بینک اسٹیمنٹ کے مطابق 24 جولائی کو بیلنس زیرو ہوچکا تھا، دوسرا بینک اکاؤنٹ بھی 28 جولائی کو زیرو ہوگیا تھا جبکہ اپنے دوسرے اکاؤنٹ سے تیسرے اکاؤنٹ میں 8 ہزار روپے ٹرانسفر کیے تھے۔

انہوں نے گھر سے نکلنے سے پہلے اپنے تیسرے اکاؤنٹ سے والد اور والدہ کو بھی رقوم ٹرانسفر کی تھیں۔ والدین کو رقوم ٹرانسفر کرنے کے بعد میر رضا کے تیسرے اکاؤنٹ میں صرف 720 روپے بیلنس تھا۔ 

میر رضا نے گھر سے نکلنے سے قبل موبائل بینک اکاؤنٹ سے بہن کو 4 ہزار روپے بھیجے تھے۔

علاوہ ازیں کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں 29 جون کو مردہ حالت میں ملنے والے نوجوان میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد نے ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے عدالت سے رجوع کرلیا۔

سیشن عدالت نے محمد احمد کی ایک لاکھ روپے میں عبوری ضمانت منظور کرلی، عدالت نے پولیس کو میر رضا کے بزنس پارٹنر کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔

عدالت نے محمد احمد کو پولیس کے ساتھ تفتیش میں تعاون کرنے کی ہدایت کی۔

خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔

مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں