حنا جاوید قتل پر قومی اسمبلی کمیٹی کو بریفنگ، اہم انکشافات
پولیس حکام نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو حنا جاوید قتل کیس پر بریفنگ دے دی۔
سی سی پی او نے بتایا کہ راولپنڈی میں گھر کے واش روم سے مردہ حالت میں ملنے والی حنا جاوید کے قتل کی نہ تو سی سی ٹی وی ہے اور نہ ہی کسی کو کچھ معلوم ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاش کو دیکھ کر ہی واضح تھا کہ یہ خودکشی نہیں ہے، مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور ملازم ذیشان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
مقتولہ کے سسر کو گرفتار کرنے کے سوال پر سی سی پی او نے کہا کہ ان سے تفتیش جاری ہے۔
کمیٹی کی رکن شاہدہ رحمان نے کہا کہ ہمیں حنا کی فیملی نے بتایا کہ اتنا بڑا واقعہ ہو گیا، ملزمان بیٹھ کر ناشتہ کر رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حنا کی فیملی نے انہیں بتایا کہ ملزمان کو تحفظ دیا جارہا ہے، آپ کی باتوں سے الزامات کو تقویت مل رہی ہے۔
زہرہ ودود فاطمی نے کہا کہ خاتون کو اتنا مارا گیا کہ اس کے جسم میں سوراخ تھے۔
قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں مقتولہ حنا کی فیملی کو بُلالیا۔




