گرین لائن! برقی زینے، لفٹس خراب، سامان چوری، حکام تبدیل کررہے ہیں نہ مرمت
پاکستان کے سب سے کامیاب اور آمدنی فراہم کرنے والے بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (بی آر ٹی) گرین لائن منصوبے کے متعدد اسٹیشنز پر نصب ’’ برقی زینے‘‘ (Escalators) ناکارہ ہوکر خراب ہوگئے ہیں، جنہیں تبدیل کیا جارہا ہے نہ ان کی مرمت کی جارہی ہے۔
جہاں یہ برقی زینے درست حالت میں موجود ہیں، وہاں بھی انہیں چلایا ہی نہیں جارہا! جس کے باعث بزرگ مسافروں کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کے لیے بھی گرین لائن کے اسٹیشنز تک آمد و رفت انتہائی مشکل ہوگئی ہے۔
وفاقی حکومت کا منصوبہ بی آر ٹی ، گرین لائن، جس کا آپریشن اب سندھ حکومت کے پاس ہے، اس وقت عبداللّٰہ موڑ، سرجانی ٹاؤن سے نمائش تک فعال ہے اور نمائش سے میونسپل پارک، جامع کلاتھ مارکیٹ تک دوسرے مرحلے کا تعمیراتی کام جاری ہے۔
گرین لائن کا روٹ گرومندر سے ناظم آباد اور نارتھ کراچی، ناگن چورنگی سے عبداللّٰہ موڑ، سرجانی ٹائون تک سطح زمین سے بلند (Elevated) رکھا گیا ہے، جہاں تمام اسٹیشنز بھی سطح زمین سے بلند بنائے گئے ہیں۔
ان اسٹیشنز تک آمد و رفت کے لیے عام زینوں کے ساتھ ساتھ برقی زینے اور لفٹس بھی لگائی گئی ہیں۔
علاوہ ازیں زمینی اسٹیشنز پر بھی سڑک عبور کرنے کے لیے مذکورہ تینوں ذریعے موجود ہیں، مگر بیشتر اسٹیشنز پر برقی زینے کام کررہے ہیں نہ لفٹ کی سہولت دستیاب ہے، بعض اسٹیشنز پر تو ان برقی زینوں کی ریلنگ اور دیگر سامان انتہائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، لیکن متعلقہ حکام انہیں تبدیل یا مرمت کرنے پر کوئی توجہ نہیں دے رہے۔
ناظم آباد نمبر ایک اسٹیشن پر تعینات ایک محافظ نے بتایا کہ ان کی ڈیوٹی اوپر اسٹیشن تک محدود ہے، جب کہ سڑک پر اترنے والے برقی زینے کا سامان چوری ہوجاتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ منصوبہ ملک بھر میں سب سے زیادہ کامیاب اور حکومت کو آمدنی فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
کراچی کے شہریوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ بی آر ٹی، گرین لائن منصوبے میں نصب برقی زینوں، لفٹس اور دیگر سہولتوں کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں مزید بہتر کیا جائے تاکہ مسافروں کو کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔




