میر رضا کیس: ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ڈی آئی جی کے جواب جوڈیشل کمیشن کو موصول ہوگئے
میر رضا کیس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان اور تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی کے جواب جوڈیشل کمیشن کو موصول ہوگئے۔
ایڈیشنل آئی جی کے مطابق انہوں نے ڈاکٹر اُسامہ سے ایسی کوئی بات نہیں کی کہ وہ خود کشی سے متعلق اپنی ابتدائی رائے پر قائم رہیں، نہ ہی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید پر کسی قسم کا دباؤ ڈالا گیا۔
ڈی آئی جی عامر فاروقی نے پولیس تفتیش کو قانون کے مطابق اور خامیوں سے پاک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاں لاش پائی گئی وہاں ہولسٹر، گولی کا خول، ذاتی اشیاء، لاش کی پوزیشن اور ہاتھ میں گھاس کی موجودگی نشاندہی کرتی ہے کہ یہی بنیادی جائے وقوع ہے، ابتدا میں لاش اور جائے وقوع محفوظ کرنے میں کچھ بے ترتیبی ضرور ہوئی مگر وہ اس حوالے سے مطمئن ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کے سوالوں کا جواب دے دیا۔ موقف اپنایا کہ گواہان کو اہلخانہ سے ملنے یا عوامی سطح پر بات کرنے سے روکنے یا دھمکیوں کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی، پوسٹ مارٹم کی خامیوں سے متعلق پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے خط سے متعلق 5 اگست کو میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا، یہ خط باضابطہ طور پر 6 اگست کو موصول ہوا تھا۔
4 اگست کو سی پی ایل سی سربراہ سے پوسٹ مارٹم رپورٹ پر پولیس سرجن کے اعتراضات کا علم ہوا تھا۔ پولیس سرجن کو اعتراضات تھے تو تحریری طور پر آگاہ کرنا چاہیے تھا۔
آزاد خان کے مطابق 5 اگست کو اپنے دفتر میں میر رضا کے اہل خانہ سے ملاقات ہوئی تھی۔ اہل خانہ کو میر رضا کی اسمارٹ واچ سے حاصل معلومات پر کوئی پریزینٹیشن نہیں دکھائی تھی۔ پولیس سرجن سے گفتگو میں تشویش کا اظہار کیا تھا کہ قبر کشائی میں تاخیر سے لاش مزید خراب اور شواہد ضائع ہوسکتے ہیں۔ میڈیکل بورڈ کے تنازع کے حل کیلئے پولیس سرجن کو قبر کشائی کی کارروائی آگے بڑھانے پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔
9 اگست کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اجلاس کیلئے مجھے اور ڈی آئی جی ایسٹ کو طلب کیا گیا تھا۔ میں نے ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کو ڈاکٹر اسامہ کو ساتھ لانے کیلئے کہا تھا تاکہ وہ پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے متعلق سوالات پر معاونت کرسکیں۔ انہوں نے ڈاکٹر اسامہ سے نہیں کہا کہ وہ اپنی ابتدائی رائے کا دفاع کریں یا اسی پر قائم رہیں۔
سربراہ عامر فاروقی نے اپنے جوابات میں بتایا کہ سابقہ تحقیقات میں ایسی کوئی خامی سامنے نہیں آئی جو تحقیقات پر اثر ڈال سکتی ہو۔ لاش اور جائے وقوع محفوظ کرنے میں بے ترتیبی ضرور ہوئی مگر وہ اس کارروائی سے مطمئن ہیں۔ جس مقام پر آگ لگائی گئی وہ لاش ملنے کے مقام سے تقریباً 15 فٹ دور تھی۔ ہولسٹر، خول، ذاتی اشیاء، ڈھلوان والی زمین پر لاش کی پوزیشن اور ہاتھ میں گھاس کی موجودگی نشاندہی کرتی ہے کہ یہی بنیادی جائے وقوع ہے۔
اس سوال پر کہ کیا بھتا خوری، جبری وصولی، بلیک میلنگ یا دھمکیوں کے پہلو پر غور کیا گیا؟ عامر فاروقی نے بتایا کہ کیس کی تحقیقات تمام ممکنہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جارہی ہے۔
اس سوال پر کہ کارروائی کے دوران ایک شخص کے طرز عمل اور روابط کا استعمال تفصیلی پوچھ گچھ کا متقاضی تھا؟ اس پر ڈی آئی جی کا گول مول جواب یہ تھا کہ کرپٹو اور مالی معاملات سے متعلق این سی سی آئی اے اور اسٹیٹ بینک سے تفصیلات کا انتظار ہے۔
عامر فاروقی کے مطابق اس کیس میں پولیس اہلکاروں اور دیگر متعلقہ افراد کے طرز عمل کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ کسی نے قانون کے خلاف کوئی کام تو نہیں کیا۔




