سندھ حکومت کا تھرپارکر کو آفت زدہ ضلع قرار دینے کا فیصلہ

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تھرپارکر کو آفت زدہ ضلع قرار دینے کا فیصلہ کر لیا، ساتھ ہی تھرپارکر میں خشک سالی سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
اس حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ تھرپارکر کے تمام 7 تعلقوں میں خشک سالی جیسی صورتِحال ہے، جہاں 85 سے 90 فیصد فصلیں تباہ یا غیر پیداواری ہو چکی ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ زرعی توسیع کے محکمے کے مطابق فصلوں کو تقریباً 90 فیصد نقصان پہنچا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ تھرپارکر کے عوام کو پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور غیر فعال آر او پلانٹس کی فوری مرمت کر کے انہیں فعال کیا جائے۔
مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پانی کی فراہمی کے تمام موجودہ ذرائع کو بھی فوری بحال کیا جائے۔
انہوں نے چیف سیکریٹری کو نوکوٹ سے مٹھی تک پانی کی لائن بچھانے کی فزیبلٹی کا جائزہ لینے کی ہدایت کی اور کہا کہ نوکوٹ سے مٹھی تک پانی کی فراہمی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی جائے، خشک سالی کے باعث مویشیوں کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے اس کی سفارشات دی جائیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ تھرپارکر کے متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، سندھ حکومت ان کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ستمبر 2026ء میں تھرپارکر کے ساتوں تعلقوں میں بارش صرف ایک سے 36 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی، غیر متوازن بارشوں کے باعث فصلیں اور قدرتی گھاس پکنے سے پہلے ہی خشک ہو گئیں۔




