اسلام آباد میں سابق سینیٹر مشتاق احمد کو حراست میں لے لیا گیا

اسلام آباد میں سابق سینیٹر مشتاق احمد کو حراست میں لے لیا گیا
جماعتِ اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان—فائل فوٹو
جماعتِ اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان—فائل فوٹو

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جماعتِ اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو حراست میں لے لیا گیا۔

مشتاق احمد غزہ کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاج میں شریک تھے۔

اس موقع پر پولیس نےانسانی حقوق کی کارکن طاہرہ عبداللّٰہ اور ثمینہ خان کو بھی گرفتار کر لیا۔

طاہرہ عبداللّٰہ نے گرفتاری کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمیں کیوں پکڑا ہے، ہم یہاں کھڑے ہوئے تھے۔

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) کے مطابق انسانی حقوق کی سرگرم کارکن طاہرہ عبداللّٰہ اور ثمینہ عمر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ طاہرہ عبداللّٰہ اور ثمینہ عمر کو نیشنل پریس کلب کے باہر حراست میں لیا گیا، غزہ کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مظاہرے سے پہلے انہیں حراست میں لیا گیا۔

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان نے بتایا ہے کہ دونوں خواتین اس وقت کسی بھی عوامی اجتماع کا حصہ نہیں تھیں، دونوں خواتین نے دفعہ 144 کی کوئی بھی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔

ایچ آر سی پی نے بتایا ہے کہ پتہ چلا ہے کہ طاہرہ عبداللّٰہ اور ثمینہ عمر کو قانونی ٹیم تک رسائی نہیں دی جا رہی۔

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ طاہرہ عبداللّٰہ اور ثمینہ عمر کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

اس سے قبل گزشتہ برس ستمبر میں بھی اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر جماعتِ اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد کو اہلیہ سمیت گرفتار کیا تھا۔



50% LikesVS
50% Dislikes
July 2026
M T W T F S S
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
2728293031  

اپنا تبصرہ بھیجیں