ایپسٹین اسکینڈل، طاقتور شخصیات سے روابط پر نئی تحقیقات
کراچی (نیوز ڈیسک) ایپسٹین اسکینڈل کے سلسلے میں طاقتور شخصیات سے روابط پر نئی تحقیقات، نیو میکسیکو میں ٹرتھ کمیشن کی کارروائی شروع، متاثرین نےزورو رینچ کو بدسلوکی کا مرکز قرار دیا، حکام پر ممکنہ غفلت اور ناکامی کے الزامات لگ گئے، وفاقی اور مقامی اداروں کے کردار پر سوالات، برطانوی میڈیا کے مطابق جیفری ایپسٹین کے نیو میکسیکو میں واقع متنازع رینچ اور اس کے طاقتور سیاسی شخصیات سے روابط ایک بار پھر تحقیقاتی دائرے میں آ گئے ہیں، جہاں ریاستی اسمبلی نے ایک منفرد “سچائی کمیشن” قائم کر کے اس بات کی چھان بین شروع کی ہے کہ آیا ماضی میں ادارہ جاتی ناکامیوں نے ایپسٹین کو بچوں کے جنسی استحصال جیسے جرائم جاری رکھنے کا موقع دیا۔ اس سلسلے میں کی پہلی بار باضابطہ تلاشی بھی لی گئی ہے، جسے متاثرین نے مبینہ طور پر انسانی اسمگلنگ اور بدسلوکی کا مرکز قرار دیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ایپسٹین نے سزا یافتہ جنسی مجرم قرار دیے جانے کے بعد بھی مقامی سیاستدانوں، بشمول سابق گورنرز اور اٹارنی جنرل، سے روابط کیوں برقرار رکھے اور انہیں انتخابی چندے کیوں دیے جاتے رہے، جبکہ بعض حکام پر یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ انہوں نے شکایات کے باوجود بروقت کارروائی کیوں نہ کی۔ رپورٹس کے مطابق ایپسٹین نے کم رقوم کے باوجود ریاستی سیاست میں اثر و رسوخ قائم کیا، تاہم فی الحال ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ اسے ان روابط کے بدلے کوئی براہ راست فائدہ ملا ہو، جبکہ وفاقی اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار اور ممکنہ غفلت بھی اس جامع تحقیقات کا اہم حصہ ہیں۔




