خیبر پختونخوا اسمبلی میں استحقاق سے متعلق ترمیمی ایکٹ منظور
خیبر پختونخوا اسمبلی نے استحقاق سے متعلق ترمیمی ایکٹ منظور کر لیا، ایکٹ کے تحت اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی پر مختلف نوعیت کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں، اسمبلی سیکرٹریٹ کا کہنا ہے کہ یہ قانونی دفعات 1988 کے قانون میں پہلے سے موجود ہیں اور ان کا مقصد اسمبلی کے استحقاق کا تحفظ ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی نے پاورز، امیونٹیز اینڈ پرولیجز سے متعلق ترمیمی ایکٹ منظور کر لیا ہے، ایکٹ کے مطابق اسمبلی کی کارروائی یا کسی رکن کی تقریر کی مسخ شدہ رپورٹ شائع کرنے پر تین ماہ قید یا تین لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔
اس کے علاوہ ممنوعہ اسمبلی کارروائی یا کمیٹی رپورٹ شائع کرنے، اسمبلی یا اس کے وقار کے خلاف ہتک آمیز مواد شائع کرنے، اسپیکر یا پریذائیڈنگ آفیسر کے کردار یا غیرجانبداری پر بے بنیاد الزامات لگانے، یا کسی رکن اسمبلی یا اسمبلی افسر کے خلاف جھوٹے اور ہتک آمیز بیانات شائع کرنے پر چھ ماہ تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکیں گی۔
ایکٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسمبلی میں جواب آنے سے پہلے سوالات، اسپیکر کو پیش کیے جانے سے قبل قرارداد یا تحریک اور ایوان میں پیش ہونے سے پہلے تحریک التوا شائع کرنا بھی استحقاق کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔ اسی طرح اسمبلی یا کمیٹی کی جعلی رپورٹ، منٹس یا سرکاری دستاویزات شائع کرنا، قانونی احکامات کی دانستہ خلاف ورزی کرنا، یا بغیر اجازت غیر متعلقہ شخص کا اسمبلی چیمبر میں داخل ہونا بھی قابلِ سزا عمل ہوگا۔
تاہم سیکرٹری خیبرپختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ نے واضح کیا ہے کہ یہ سزائیں 1988 کے اصل قانون کے تحت پہلے سے نافذ ہیں اور ترمیمی ایکٹ میں انہیں برقرار رکھا گیا ہے۔
ان کے مطابق یہ قانون کسی صحافی کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ اسمبلی کے استحقاق اور پارلیمانی کارروائی کے تحفظ کے لیے ہے۔




