میر رضا علی نے دوست سے 3 کروڑ روپے ادھار مانگے: تفتیشی حکام

میر رضا علی کے موبائل ڈیٹا کا ریکارڈ اور فارنزک رپورٹ تفتیشی حکام نے حاصل کر لی۔
تفتیشی حکام کے مطابق 28 جولائی کی رات میر رضا نے اپنے ایک دوست کو میسج کیا تھا۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ میر رضا کی مکمل میڈیکل رپورٹ تاحال نہیں آئی، ابتدائی میڈیکل رپورٹ سے فیملی مطمئن نہیں، ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں وجۂ موت گولی لگنا بتائی گئی ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق فیملی کا دعویٰ ہے کہ میر رضا کے جسم پر تشدد اور جلنے کے نشانات ہیں، اگر فیملی دوبارہ میڈیکل کا کہتی ہے تو کروایا جائے گا، آن لائن ٹیکسی ڈرائیور اور لاش کی ابتدائی اطلاع دینے والے شخص سمیت 15 لوگوں کا بیان لیا ہے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ میر رضا کی موت خودکشی ہے یا قتل، اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، میر رضا علی نے دوست سے 3 کروڑ روپے ادھار مانگے، انہوں نے کہا کہ میں بہت مشکل میں ہوں، رقم کی شدید ضرورت ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق موبائل ڈیٹا کے ریکارڈ سے لگتا ہے کہ میر رضا مختلف لوگوں کے قرض دار تھے، ان کی منگیتر نے رات 3 بج کر 10 منٹ سے 3 بج کر 50 منٹ تک مسلسل میسج کیے، میر رضا نے منگیتر کے کسی میسج کا کوئی جواب نہیں دیا۔




