میر رضا کیس میں مشکوک گیسٹ ہاؤس کی مکمل تفصیلات سامنے آگئیں

میر رضا کیس میں مشکوک گیسٹ ہاؤس کی مکمل تفصیلات سامنے آگئیں

میر رضا کیس میں مشکوک گیسٹ ہاؤس کی مکمل تفصیلات جیونیوز نے حاصل کرلیں۔

 مشکوک گیسٹ ہاؤس لیاقت علی نامی شخص کے نام پر رجسرڈ ہے، متعلقہ گھر خاتون کی ملکیت ہے، یکم جون 2026 کو پولیس ویریفیکشن کروائی گئی۔

 گیسٹ ہاؤس ہوٹل آئی ایپلیکشن پر رجسرڈ نہیں تھا، ہوٹل آئی ایپلیکشن پولیس کی طرف سے لازمی قرار دی گئی تھی۔

واقعے کے بعد پولیس نے گیسٹ ہاؤس بند کر کے 6 افراد کو حراست میں لیا ہے۔

پولیس نے میر رضا کی لاش ملنے کے مقام کے قریب گیسٹ ہاؤس پر تالے لگا دیے، وہاں کام کرنے والے 6 افراد زیر حراست ہیں، تفتیش کے لیے اب تک میر رضا کے دوست اور بزنس پارٹنرز سمیت 21 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، زیر حراست افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ڈی آئی جی کرائم برانچ عامر فاروقی کی سربراہی میں میر رضا کیس کیلئے قائم پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

حکام کے مطابق کیس میں دفعہ 365 اور 302 کے بعد دفعہ 201 بھی شامل کردی گئی ہے، دفعہ 201 شواہد چھپانے یا ضائع کرنے سے متعلق شامل کی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ گلستان جوہر سے مردہ حالت میں ملنے والے میر رضا کی  8 اگست کو کی گئی قبر کشائی کے بعد کیے گئے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ  میں میر رضا کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔

ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کے جسم کے پیچھے کی طرف گولی لگنے کا نشان چھوٹا اور سامنے کی طرف بڑا ہے، ماہرین کے مطابق اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گولی پیچھے کی طرف سے لگی۔

میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹ چکی تھیں ، سر اور چہرے پر زخموں کے کئی نشانات موجود تھے ، دائیں ران پر تقریباً 12سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم پایا گیا، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے ملے۔

8 اگست کو میر رضا کی قبر کشائی کے بعد حاصل کیے گئے نمونوں کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بالکل مختلف پائی گئی، میر رضا کے جبڑے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد ملے، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائی گئیں۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق قبر کشائی کے دوران مجموعی طور پر 17سیمپل حاصل کیے گئے، میر رضا علی کے والدین کے بھی سیمپل حاصل کیے گئے جن سے ڈی این اے میچ کیا جائے گا، سیمپلز کو جامعہ کراچی کی فارنزک لیب میں جمع کروایا جائے گا، جسم سے مختلف نمونے حاصل کرنے کے بعد میر رضا کو اسی روز یعنی 8 اگست کو دوبارہ سپردِ خاک کردیا گیا۔

خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔

مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔



50% LikesVS
50% Dislikes
August 2026
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31  

اپنا تبصرہ بھیجیں