میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
فائل فوٹو
فائل فوٹو 

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں قتل ہونے والے نوجوان میر رضا کے کیس میں مقتول کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ شیخ کو میڈیکولیگل افسر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ کو میڈیکولیگل افسر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، ڈاکٹر اسامہ نے میر رضا کے پوسٹ مارٹم میں سنگین غلطیاں کیں، انکوائری میں ڈاکٹر اسامہ افسران کے سامنے پیش ہوں گے۔

دوسری جانب میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ کروائی گئی ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ کے اطراف تین موبائل فون کمپنیوں کے ٹاورز لگے ہوئے ہیں جس سے جیو فینسنگ کے دوران گلستان جوہر کے مختلف بلاکس کی لوکیشنز آرہی ہیں۔ 

واقعہ کو کئی روز گزر جانے کی وجہ سے تحقیقاتی ٹیم کو جیو فینسنگ میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جائے وقوعہ کے اطراف سے بھی مختلف شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں، میر رضا کی لاش ملنے کے مقام کے اطراف کے 500 میٹرکے ایریا میں سرچنگ کی گئی ہے۔ 

نئی تحقیقاتی کمیٹی نے میر رضا کی اسمارٹ واچ کی تفصیلات حاصل کی ہیں تاہم اسمارٹ واچ کا مکمل ڈیٹاحاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ گلستان جوہر سے مردہ حالت میں ملنے والے میر رضا کی 8 اگست کو کی گئی قبر کشائی کے بعد کیے گئے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں میر رضا کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔

ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کے جسم کے پیچھے کی طرف گولی لگنے کا نشان چھوٹا اور سامنے کی طرف بڑا ہے، ماہرین کے مطابق اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گولی پیچھے کی طرف سے لگی۔

میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹ چکی تھیں ، سر اور چہرے پر زخموں کے کئی نشانات موجود تھے ، دائیں ران پر تقریباً 12سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم پایا گیا، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے ملے۔

8 اگست کو میر رضا کی قبر کشائی کے بعد حاصل کیے گئے نمونوں کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بالکل مختلف پائی گئی، میر رضا کے جبڑے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد ملے، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائی گئیں۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق قبر کشائی کے دوران مجموعی طور پر 17سیمپل حاصل کیے گئے، میر رضا علی کے والدین کے بھی سیمپل حاصل کیے گئے جن سے ڈی این اے میچ کیا جائے گا، سیمپلز کو جامعہ کراچی کی فارنزک لیب میں جمع کروایا جائے گا، جسم سے مختلف نمونے حاصل کرنے کے بعد میر رضا کو اسی روز یعنی 8 اگست کو دوبارہ سپردِ خاک کردیا گیا۔

خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔

مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں