محکمہ اینٹی کرپشن نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں بے ضابطگیوں پر تقرریاں منسوخ کرنے کی سفارش کردی

فائل فوٹو
فائل فوٹو 

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) میں اہم عہدوں پر مبینہ بے ضابطگیوں اور تقرریوں کے معاملے پر محکمہ اینٹی کرپشن نے انکوائری کی ہے، جس میں متعدد تعیناتیوں کے طریقہ کار اور امیدواروں کی اہلیت پر اعتراضات سامنے آئے ہیں، جس پر تقرریاں منسوخ کرنے کی سفارش کردی گئی۔

اینٹی کرپشن کی انکوائری رپورٹ کے مطابق حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ڈائریکٹر فنانس، چیف انٹرنل آڈیٹر، ڈائریکٹر سپلائی چین، ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کلینیکل آڈٹ سمیت دیگر اہم عہدوں پر ہونے والی تقرریوں میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اہلیت کے مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے کے باوجود ڈائریکٹر فنانس کی تعیناتی کی گئی، جبکہ چیف انٹرنل آڈیٹر کے عہدے کے لیے میرٹ میں پہلے نمبر پر آنے والے امیدوار کو نظرانداز کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

اینٹی کرپشن رپورٹ کے مطابق تکنیکی مہارت کے مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے کے باوجود ڈائریکٹر سپلائی چین کے عہدے پر تقرری کی گئی، جبکہ اہلیت نہ رکھنے کے باوجود ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کلینیکل آڈٹ کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان تقرریوں میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز (ایم ٹی آئی) ایکٹ اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی، جس پر مذکورہ تقرریاں منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اینٹی کرپشن انکوائری میں بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین، ارکان اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق متنازع تقرریوں کو تقریباً تین سال تک برقرار رکھنے کے باعث خزانے کو مبینہ طور پر 15 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔ انکوائری میں اس مالی نقصان کی رقم متعلقہ افراد سے وصول کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

اینٹی کرپشن نے متعلقہ افسران کی تعلیمی اسناد، تجربے اور پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹس کی تصدیق کروانے کی سفارش بھی کی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ تقرری کے وقت پیش کی گئی دستاویزات مقررہ معیار اور قواعد کے مطابق تھیں یا نہیں۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں تقرریوں کے معاملے پر پہلے ہی اینٹی کرپشن کی جانب سے تحقیقات شروع کی جا چکی ہیں، جبکہ پشاور ہائی کورٹ میں بھی ڈائریکٹر فنانس، چیف انٹرنل آڈیٹر اور ڈائریکٹر سپلائی چین سمیت اہم عہدوں پر تقرریوں کے خلاف درخواست زیر سماعت ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں