ٹرمپ کے مشیر کی حماس قیادت سے ملاقات، غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنانے پر زور

ٹرمپ کے مشیر کی حماس قیادت سے ملاقات، غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنانے پر زور

کراچی (نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر نے مصر میں حماس رہنماؤں سے ملاقات کی اور غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنانے پر زور دیا، انہوں نے مزاحمتی تنظیم پر اپنے ہتھیار ڈالنے کے وعدے پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالا۔قاہرہ میں منعقدہ اہم اجلاس میں مصری انٹیلی جینس چیف، قطر، ترکیہ اور حماس رہنماؤں نے شرکت کی،غزہ سے اسرائیلی انخلا بھی مذاکرات کا حصہ بنا، جیرڈ کشنر جلد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے جس کے بعد امن منصوبہ کے اگلے مرحلہ پر مشاورت متوقع ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق گزشتہ اکتوبر میں غزہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کے بعد یہ حماس کے رہنماؤں کے ساتھ کشنر کی پہلی ملاقات تھی۔ یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، حماس اور اسرائیل کو امریکی 20 نکاتی امن منصوبے کے اگلے مرحلے کی جانب لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔کشنر پیر کو اسرائیل کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات متوقع ہے۔بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، جو بورڈ کے رکن بھی ہیں، اجلاس میں کشنر کے ہمراہ تھے۔حماس کے سیاسی رہنما خلیل الحیہ نے بھی اجلاس میں شرکت کی، جبکہ مصر کے انٹیلی جنس چیف حسن رشاد، قطری سفارت کار علی الثوادی اور ترکیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔ذرائع کے مطابق ملاقات کا مقصد غزہ کو غیر فوجی بنانے سے متعلق حماس کی ذمہ داریوں کو ایسے مخصوص اقدامات میں تبدیل کرنا تھا جن کی تصدیق کی جا سکے۔زیر بحث اقدامات میں غزہ کا انتظامی اختیار فلسطینی ٹیکنوکریٹ حکومت کو منتقل کرنا اور یہ یقینی بنانا شامل ہے کہ حماس مستقبل میں اس علاقے کی حکمرانی میں حصہ نہ لے۔بورڈ آف پیس حماس کے ہتھیاروں اور فوجی ڈھانچے کو ختم کرنے، بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی اور غزہ کی بحالی و تعمیر نو کے عمل کو آگے بڑھانے پر بھی زور دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ تعمیر نو میں حصہ لینے والے فلسطینیوں کو چوری، دھمکیوں یا خوف زدہ کرنے جیسے اقدامات کا نشانہ نہ بنایا جائے۔رپورٹ کے مطابق بورڈ اس بات کا خواہاں ہے کہ حماس کے غیر مسلح ہونے کے عمل کے آغاز کے ساتھ اسرائیل بھی غزہ کے بعض علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کرے، جبکہ علاقے کے لیے انسانی امداد کی فراہمی میں بھی تیزی لائی جائے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں