مصطفیٰ کمال، ناصر شاہ کا بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنے پر اتفاق
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنے پر اتفاق کرلیا۔
جیو نیوز کے کیپٹل ٹاک میں گفتگو کے دوران مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس وقت جو نئے صوبے بنانے کی گفتگو شروع ہوئی وہ تو ہم نے شروع نہیں کی ہم نے تو تائید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس بنائیں یا نہ بنائیں مقامی حکومتوں کا نظام تو ٹھیک کریں، بلدیاتی اداروں کی مضبوطی کے لیے ایم کیو ایم کا بل پاس کروانے میں پیپلز پارٹی ان کا ساتھ دے۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ یہ کہنا ہے کہ نئے صوبوں کی بات ہی نہ کریں تو یہ بھٹو کے بنائے آئین کے خلاف بات ہے۔
ناصر شاہ نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کی بات نہیں ہونی چاہیے، صوبے کی بہتری کےلیے ساتھ مل کر کام کریں، گورننس کی بہتری اور بلدیاتی اداروں کی مضبوطی کے لیے بات ہوسکتی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ 2024 کے الیکشن میں ایم کیو ایم نے ہمارے خلاف اتحاد بنالیا تھا، میری پٹیشن پر عدالت نے 2011ء میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔
صوبائی وزیر نے یہ بھی کہا کہ جن صوبائی اسمبلیوں نے قرارداد پاس کرلی ہے، وہاں نئے صوبے بنالیں، کالا باغ پر تو چلو اعتراض ہے جو دوسرا ڈیم جس پر سب متفق ہیں وہ اب تک کیوں نہیں بنا؟




