حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کی پوری کوشش کی: رانا ثناء اللّٰہ

وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے پوری کوشش کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل ہو۔
سینیٹ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ حکومت آئین کے تابع ہے، سپریم کورٹ سمیت عدالتیں بھی آئین کے تابع ہیں۔
رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملددرآمد پر علی ظفر نے مؤقف اپنایا، علی ظفر کو بھی عدالت نہیں بننا چاہیے، سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ سیکیورٹی سے متعلق انتظامیہ فیصلہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ بانئ پی ٹی آئی کو شفاء اسپتال لایا گیا، اسپتال میں سیکیورٹی کے معاملات تھے، امن و امان کی صورت پیدا ہو سکتی ہے، آخری لمحے میں پروگرام تبدیل کر کے بانئ پی ٹی آئی کو سرکاری اسپتال لے جایا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ بانئ پی ٹی آئی کا قابل ڈاکٹرز نے چیک اپ کیا، ہمارا مؤقف ہے کہ عدالت کے فیصلے پر عمل ہوا، عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ ان کے فیصلے پر عمل ہوا یا نہیں، ہم اور انتظامیہ شواہد پیش کریں گے کہ شفاء اسپتال کے باہر یہ حالات تھے، آپ اس کی تردید کریں۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ عدالت فیصلہ کرے گی کہ کمی رہ گئی یا فیصلے پر عمل ہوا، پریس کانفرنس میں بانئ پی ٹی آئی کی پلس اور بلڈ پریشر کا بتایا گیا، ڈاکٹرز نے تو بانئ پی ٹی آئی کو صحت مند قرار دیا، 16 ستمبر کو عدالت جو فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے، اگر آپ کو لگتا ہے عمل نہیں ہوا تو عدالت جائیں۔




