قائمہ کمیٹی کے ارکان نے پمز کی صورتِ حال پر سنگین سوالات اٹھا دیے

ڈاکٹر مہیش کمار کی سربراہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پمز اسپتال کا دورہ کیا، کمیٹی ارکان نے پمز کی صورتِ حال پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔

 میڈیا سے گفتگو میں مہیش کمار نے کہا کل ایئرکنڈیشنر سے آگ لگنے کا بتایا، یہاں ہمیں کہا گیا کہ اے سی تو کام ہی نہیں کررہا تھا، نرس نے کہا کام کر رہے تھے، اچانک آگ لگی۔

مہیش کمار نے کہا کہ پمز میں کسی کو وجہ ہی نہیں معلوم، سی سی ٹی وی ویڈیو میں پتا نہیں چلا کہ آگ کہاں سے لگی ہے، وارڈ 1990 کا بنا ہوا ہے، متاثرہ نرسری تو نومولود بچوں کو رکھنے کے قابل ہی نہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں جھلس کر جاں بحق 14 نومولود کے والدین غم سے نڈھال ہیں، والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

دوسری جانب سانحہ پمز پر وزیراعظم شہباز شریف کی تحقیقاتی کمیٹی نے چلڈرن اسپتال کی نرسری کے عملے سے تحریری بیانات طلب کر لیے۔

کمیٹی نے نرسری کی سی سی ٹی وی کا ریکارڈ قبضہ میں لے لیا، نرسری اسٹاف سے سوالات کیے۔

سانحہ پمز، تحقیقاتی کمیٹی نے عملے سے تحریری بیانات طلب کرلیے، سی سی ٹی وی ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا

ذرائع کے مطابق کمیٹی نے سی سی ٹی وی کا جائزہ لیا، آگ کی وجوہات سے متعلق انتظامیہ کے بیان اور سی سی ٹی وی ویڈیو کا موازنہ کیا، پمز ہیلتھ مینجمنٹ کے عملے سے پوچھ گچھ کی۔

کمیٹی پمز انتظامیہ نے 26 اگست کو ڈیوٹی پر موجود عملے کا روسٹر جمع کروایا، جبکہ فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ پیش کی۔

کمیٹی کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سمیت 4 افسران نے تحریری بیانات جمع کروائے، کمیٹی 48 گھنٹوں میں عبوری تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں