خواجہ آصف نے اپوزیشن سے قائمہ کمیٹیوں کا بائیکاٹ ختم کرنے کی درخواست کردی
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپوزیشن سے قائمہ کمیٹیوں کا بائیکاٹ ختم کرنے کی درخواست کردی، پیر کو قائمہ کمیٹی اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دے دی۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں سے بہتر کوئی پلیٹ فارم نہیں، قائمہ کمیٹی کی کارروائی کو اوپن ہونا چاہیے تاکہ سب کو معلوم ہو کہ ہاؤس احتساب کر رہا ہے۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سانحہ پمز میں 14 نومولود بچوں کی اموات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا، خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تحاریک منظور کرلی گئی۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سانحے میں ملوث کوئی شخص نہیں بچے گا، سارے افسران لائن حاضر کریں گے، کوئی ایم این اے، کوئی سینیٹر پھر فون نہ کریں کہ اس بندے کو کیوں ہٹایا۔
مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن سے بھی تجاویز اور روڈ میپ مانگتے ہوئے کہا کہ تاریخوں اور کمیٹیوں کی حد تک معاملے کو محدود نہ کریں، مسئلے کا حل نکالیں تاکہ اگلے سانحے سے بچا جا سکے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سانحے پر تفصیلی رپورٹ 7 روز میں تیار ہوگی، رپورٹ کے بعد ضروری اقدامات کیے جائیں گے، سانحے پر سیاست کے بجائے ٹھوس تجاویز دی جائیں۔
حکومت نے پمز واقعے میں جاں بحق بچوں کے والدین کے لیے 50 لاکھ روپے فی خاندان امداد کا اعلان کردیا۔
قومی اسمبلی بھی سانحہ پمز میں جاں بحق بچوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔




