آپ کے استعفے کا کیا بنا؟ مصطفیٰ کمال سے صحافی کا سوال

وفاقی وزراء مصطفیٰ کمال اور طارق فضل چوہدری نے پمز اسپتال کا دورہ کیا، وزیر صحت سے ایک مرتبہ پھر صحافی کی جانب سے استعفیٰ دینے سے متعلق سوال کیا گیا۔

صحافی نے وفاقی وزیر صحت سے سوال کیا رپورٹ کب تک پیش کی جائے گی؟ مصطفی کمال نے جواب دیا رپورٹ آجائے گی تو سب کو پتا چل جائے گا۔

صحافی نے سوال کیا آپ کے استعفے کا کیا بنا؟ جس پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیر اعظم سے پوچھیں میرے استعفے کا کیا ہوا؟

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے جو آج آجائے گی، ذمہ داری فکس کی جائے گی، جن لوگوں نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ان کا علاج بھی ہوگا۔

26 اگست کو پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں جھلس کر 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے، جن کے والدین غم سے نڈھال ہیں، والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب  سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ کی تفصیلات سامنے آ گئیں، قائم مقام سیکریٹری کیپٹن ریٹائرڈ محمود کی سفارشات بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں پمز سانحہ پر متعدد سینئر افسران کو غفلت اور کوتاہی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، کمیٹی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور متعلقہ عملے سمیت 10 افسران کو عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔

کمیٹی رپورٹ میں 5 اہم ترین اعلیٰ افسران کو بھی عہدوں سے فارغ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں ای ڈی پمز رانا عمران سکندر، ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عنیزہ جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال درانی، ڈپٹی ڈائریکٹر حسن نواز، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر چلڈرن ڈاکٹر مطاہر شاہ کو برطرف کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینئر افسران نے سنگین غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا، پمز اسپتال غیر پیشہ ورانہ انداز میں اور مناسب انتظامی ڈھانچے کے بغیر چلایا جا رہا تھا۔

رپورٹ میں ہٹائے جانے والے افسران کی جگہ نئے، اہل افراد کی تعیناتی اور اسپتال کے لیے مستقل گورننگ بورڈ قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپتال کی باقاعدہ نگرانی اور مؤثر انتظام کے لیے گورننگ بورڈ ناگزیر ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں