عوام کی مرضی کے بغیر سندھ تقسیم ہوا تو وفاق کمزور ہو گا: بیرسٹر گوہر

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اگر عوام کی مرضی کے بغیر سندھ تقسیم ہوا تو اس سے وفاق کمزور ہو گا۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبوں کے قیام کے لیے متنازع قانون سازی نہیں ہونی چاہیے، یہ سنجیدہ معاملہ ہے، اس پر بحث ہونی چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کل بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا دن ہے، ان کی سیاسی قیادت اور فیملی سے ملاقات کرائی جائے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی سے علامہ راجہ ناصر، محمود اچکزئی کی ملاقات انتہائی ضروری ہے، محمود اچکزئی نے الیکشن کمیشن معاملے پر وزیرِا عظم کو خط لکھا ہے جس کا وزیرِ اعظم کو نوٹس لینا چاہیے۔
انہوں نے کہا ہے کہ مذاکرات پہلے بھی پیشکش کی حد تک رہے، اس معاملے پر پیش رفت ہونی چاہیے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ سندھ کے عوام نے وزیرِ اعلی کے پی کا بھر پور استقبال کیا، اس پر میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، سہیل آفریدی کی کراچی واپسی پر رکاوٹیں ڈالنے کے باوجود لوگ نکلے، یہ استقبال عکاسی کرتا ہے کہ عوام اسٹیٹس کو نہیں چاہتے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ دہشت گردی پر نہ پوائنٹ اسکورنگ ہونی چاہے اور نہ سیاسی بیانات، میں وزیرِ اعلی پنجاب کے دہشت گردی سے متعلق بیان کی مذمت کرتا ہوں، پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارتی ایجنسی را ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا بیان متعصبانہ ہے، دہشت گردی پر قومی سیاسی قیادت کو سنجیدہ رویہ رکھنا چاہیے، ہمارے سویلینز اور افواج قربانیاں دے رہی ہیں، وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کو اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم جیسی مشاورت ہونی چاہیے، جلد بازی میں صوبوں کے قیام کا فیصلہ وفاقی کی یکجہتی کے خلاف ہو گا۔




