لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ، سرکاری ملازمین کو سول ایوارڈز دینے کیخلاف درخواست خارج

لاہور ہائی کورٹ نے سرکاری ملازمین اور عوامی عہدہ رکھنے والے افراد کو سول ایوارڈز دینے کے خلاف درخواست خارج کر دی۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئین میں عوامی خدمت کو صرف بلا معاوضہ یا رضاکارانہ خدمات تک محدود نہیں کیا گیا، اس لیے سرکاری ملازمین کو سول ایوارڈ کے لیے نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت کے مطابق محض سرکاری عہدے پر فائز ہونا کسی شخص کو سول ایوارڈ کا حق دار نہیں بناتا تاہم پاکستان کے سول ایوارڈز میں عوامی خدمت ایک الگ شعبہ ہے اور اس کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو نامزدگی کا ادارہ مقرر کیا گیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جانچ پڑتال کمیٹیاں، ایوارڈ کی سفارش کرنے والی کمیٹیاں اور مرکزی ایوارڈ کمیٹی مقررہ طریقہ کار کے تحت کام کرتی ہیں، عوامی خدمت کا جائزہ لیتے وقت مقررہ سرکاری ذمہ داریوں سے بڑھ کر انجام دی گئی خدمات کو مدِنظر رکھا جاتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ انصاف، دیانت داری، غیر جانب داری اور کردار کی ساکھ بھی سول ایوارڈ کے معیار میں شامل ہیں جبکہ معمول کی ملازمت کی کارکردگی اور غیر معمولی عوامی خدمت میں واضح فرق رکھا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق صرف تنخواہ لینے کی بنیاد پر کسی شخص کی غیر معمولی عوامی خدمت کو سول ایوارڈ سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ قانونی بنیاد کے بغیر صدرِ مملکت یا متعلقہ حکام کو کسی سول ایوارڈ کی واپسی یا منسوخی کی ہدایت نہیں دی جا سکتی۔
لاہور ہائی کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 259 کی شق 2 میں عوامی خدمت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔




